سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 177
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 145 یہی ہے۔ پھر شہروں اور گاؤں میں تو اور بھی سستی اور غفلت ہوتی ہے۔“ جو آبادیوں میں رہنے والے لوگ ہیں ، زیادہ مصروف ہیں۔ وہ اپنے کاموں کی وجہ سے اور بھی زیادہ سست ہو جاتے ہیں۔ فرمایا کہ : دو سو پچاسواں حصہ بھی تو پوری مستعدی اور سچی محبت سے اپنے مولا حقیقی کے حضور سر نہیں جھکاتا۔ پھر سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیوں؟ ان کو اس لذت کی اطلاع نہیں اور نہ کبھی انہوں نے اس مزا کو چکھا۔ اور مذاہب میں ایسے احکام نہیں ہیں “۔ ہیں۔ فرمایا: دوسرے مذہب جو ہیں اُن میں باقاعدگی سے عبادت کرنے کے ایسے احکام نہیں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم اپنے کاموں میں مبتلا ہوتے ہیں اور مؤذن اذان دے دیتا ہے۔ پھر وہ سننا بھی نہیں چاہتے گویا ان کے دل دُکھتے ہیں۔ یہ لوگ بہت ہی قابل رحم ہیں۔“ اذان ہو گئی مگر اذان پر کان نہیں دھرا۔ یا نماز کا وقت ہو گیا اور اس کی طرف توجہ نہیں دی۔ فرمایا کہ : دو یہ لوگ بہت ہی قابل رحم ہیں۔“ آپ نے فرمایا کہ : دو بعض لوگ یہاں بھی ایسے ہیں کہ ان کی دکانیں دیکھو تو مسجدوں کے نیچے ہیں مگر کبھی جا کر کھڑے بھی تو نہیں ہوتے۔“ یعنی نماز کے لئے نہیں جاتے۔ فرمایا کہ : پس میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ سے نہایت سوز اور ایک جوش کے ساتھ یہ دعا مانگنی چاہیے کہ جس طرح پھلوں اور اشیاء کی طرح طرح کی لذتیں عطا کی ہیں نماز اور عبادت کا بھی ایک بار مزہ چکھا دے۔ کھایا ہوا یا درہتا ہے۔“ یا آپ فرماتے ہیں کہ : کھایا ہوا یا د رہتا ہے۔ دیکھو اگر کوئی شخص کسی خوبصورت کو ایک سرور کے ساتھ دیکھتا