سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 176
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 144 یا درکھو یہ نماز ایسی چیز ہے کہ اس سے دنیا بھی سنور جاتی ہے اور دین بھی۔ لیکن اکثر لوگ جو نماز پڑھتے ہیں تو وہ نماز ان پر لعنت بھیجتی ہے۔ جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ - الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ (الماعون : 5-6) یعنی لعنت ہے ان نمازیوں پر جو نماز کی حقیقت سے ہی بے خبر ہوتے ہیں۔“ فرمایا کہ: نماز تو وہ چیز ہے کہ انسان اس کے پڑھنے سے ہر ایک طرح کی بد عملی اور بے حیائی سے بچایا جاتا ہے۔ اس طرح کی نماز پڑھنی انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتی اور یہ طریق خدا کی مدد اور استعانت کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔ اور جب تک انسان دعاؤں میں نہ لگا رہے اس طرح کا خشوع اور خضوع پیدا نہیں ہو سکتا۔“ نماز پڑھنے کے لئے اور یہ مقام حاصل کرنے کے لئے کہ جہاں انسان سب برائیوں سے بچے ایک کوشش کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل کو حاصل کرنے کی ضرورت ہے اس کے لئے خشوع اور خضوع ضروری ہے۔ آپ فرماتے ہیں: ”اس لئے چاہیے کہ تمہارا دن اور تمہاری رات غرض کوئی گھڑی دعاؤں سے خالی نہ ہو۔“ (ملفوظات جلد 10 صفحہ 66-67) پس نماز کا حظ اور سرور حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے فضل کو حاصل کرنے کی ضرورت ہے اور اللہ تعالیٰ کا فضل مانگنے کے لئے پھر اسی کے آگے جھکنے کی ضرورت ہے اور چلتے پھرتے بھی اس کا ذکر کرنے کی ضرورت ہے اور خشوع مانگنے کی ضرورت ہے۔ یہ حالت انسان پیدا کرے تو پھر نمازوں کا بھی مزا آتا ہے۔ نماز میں لذت کیونکر حاصل ہو پھر نماز میں لذت نہ آنے کی وجہ اور اس کا علاج بتاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : میں دیکھتا ہوں کہ لوگ نمازوں میں غافل اور سست اس لئے ہوتے ہیں کہ اُن کو اس لذت اور سرور سے اطلاع نہیں جو اللہ تعالیٰ نے نماز کے اندر رکھا ہے اور بڑی بھاری وجہ اس کی