سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 175 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 175

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 143 یا جمادات۔ پودے ہوں، پھل ہوں، پہاڑ ہوں، خوبصورت چیزیں ہوں حیوانات ہوں یا انسان حظ نہیں پاتا؟ ان کو دیکھ کر یقیناً اس سے وہ لطف اندوز ہوتا ہے“۔ فرمایا کہ: کیا دل خوش کن اور سریلی آوازوں سے اس کے کان محظوظ نہیں ہوتے؟ پھر کیا کوئی دلیل اور بھی اس امر کے اثبات کے لئے مطلوب ہے کہ عبادت میں لذت نہیں۔“ آگے آپ فرماتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے عورت اور مرد کو جوڑا پیدا کیا اور مرد کو رغبت دی ہے۔ اب اس میں زبر دستی نہیں کی بلکہ ایک لذت بھی دکھلائی ہے۔ اگر محض توالد و تناسل ہی مقصود بالذات ہو تا تو مطلب پورا نہ ہو سکتا۔ آپ فرماتے ہیں کہ : 66 ”خوب سمجھ لو کہ عبادت بھی کوئی بوجھ اور ٹیکس نہیں۔ اس میں بھی ایک لذت اور سرور ہے اور یہ لذت اور سرور دنیا کی تمام لذتوں اور تمام حظوظ نفس سے بالا تر اور بلند ہے۔ دو فرماتے ہیں کہ : 66 " جیسے ایک مریض کسی عمدہ سے عمدہ خوش ذائقہ غذا کی لذت سے محروم ہے اسی طرح پر ہاں ٹھیک ایسا ہی وہ کمبخت انسان ہے جو عبادت الہی سے لذت نہیں پاسکتا۔“ (ملفوظات جلد 1 صفحہ (159-160 نماز میں لذت اور خشوع و خضوع خدا کی مدد اور استعانت کے بغیر حاصل نہیں ہوتا پس یہ انسان کی کمزوری ہے اور نمازوں کی طرف توجہ نہ دینا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے محروم ہونا ہے کہ نماز میں لذت نہیں آتی۔ پس ہمیں ، ہم میں سے جو بھی ایسے ہیں ان کو فکر کرنی چاہیے۔ پھر حقیقی نماز کسی قسم کی ہے اور کیسی ہونی چاہیے ؟ اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ :