سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 174
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم فرمایا کہ: 142 جس طرح پر ایک مریض ایک عمدہ سے عمدہ خوش ذائقہ چیز کا مزا نہیں اٹھا سکتا اور وہ اسے تلخ یا بالکل پھیکا سمجھتا ہے۔“ مریض ہیں۔ ان کے منہ بدمزہ ہو جاتے ہیں۔ زبان بک بکی ہو جاتی ہے تو ان کو کسی چیز کا مزا نہیں آتا۔ اکثر مریضوں سے ہم یہی دیکھتے ہیں۔ فرمایا کہ : کرنا چاہیے۔“ اسی طرح وہ لوگ جو عبادت الہی میں حظ اور لذت نہیں پاتے ان کو اپنی بیماری کا فکر جن کو نماز میں حظ نہیں آتا تو اس کا مطلب ہے وہ بھی بیمار ہیں۔ فرمایا: کیونکہ جیسا میں نے ابھی کہا ہے دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس میں خدا تعالیٰ نے کوئی نہ کوئی لذت نہ رکھی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو عبادت کے لئے پیدا کیا تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس عبادت میں اس کے لئے لذت اور سرور نہ ہو۔ لذت اور سرور تو ہے مگر اس سے حظ اٹھانے والا بھی تو ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات : 57) اب انسان جبکہ عبادت ہی کے لئے پیدا ہوا ہے تو پھر ضروری ہے کہ عبادت میں لذت اور سرور بھی درجہ غایت کا رکھا ہو۔“ عبادت میں اعلیٰ درجے کی لذت اور سرور بھی ہونا چاہیے۔ نہیں تو اللہ تعالیٰ نے صرف پیدا کیا اور اس کا کوئی مقصد نہیں یا اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے یا اس میں سرور نہیں حاصل ہو رہا تو کس طرح انسان وہ کام کر سکتا ہے۔ فرمایا: اس بات کو ہم اپنے روز مرہ کے مشاہدہ اور تجربے سے خوب سمجھ سکتے ہیں۔ مثلاً دیکھو اناج اور تمام خوردنی اور نوشیدنی اشیاء انسان کے لئے پیدا ہوئی ہیں۔ کھانے پینے کی تمام چیزیں انسان کے لئے پیدا ہوئی ہیں۔ تو کیا ان - ان سے وہ ایک لذت اور حظ حظ نہیں پاتا؟ کیا اس ذائقہ ، مزے اور احساس کے لئے اس کے منہ میں زبان موجود نہیں۔ کیا وہ خوبصورت اشیاء دیکھ کر نباتات ہوں