سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 173 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 173

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم دو 141 سو واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے یہ بھی ایک نشان ہے کہ بعض وقت ادویات بیکار رہ جاتی ہیں اور حفظ صحت کے اسباب بھی کسی کام نہیں آسکتے۔ نہ دوا کام آسکتی ہے، نہ طبیب حاذق لیکن اگر اللہ تعالیٰ کا امر ہو تو الٹا سیدھا ہو جایا کرتا ہے۔“ (ملفوظات جلد 1 صفحہ 263) پس اس کے لئے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کیا جائے اور اس کے لئے بہترین ذریعہ اس کی عبادت اور عبادتوں میں نماز کی ادائیگی ہے۔ عبادت میں اعلیٰ درجہ کی لذت اور سرور بھی ہونا چاہیے پھر نماز کی حقیقت اور اہمیت اور انسان کو اس کی ضرورت اور نماز کی کیا کیفیت ہونی چاہیے ؟ ان باتوں کی وضاحت فرماتے ہوئے ایک موقع پر آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ : ”نماز کیا ہے؟“ فرمایا کہ: وو یہ ایک خاص دعا ہے۔ مگر لوگ اس کو بادشاہوں کا ٹیکس سمجھتے ہیں۔ نادان اتنا نہیں جانتے کہ بھلا خدا تعالیٰ کو ان باتوں کی کیا حاجت ہے۔ اس کے غناء ذاتی کو اس بات کی کیا حاجت ہے کہ انسان دعا، تسبیح اور تہلیل میں مصروف ہے۔ بلکہ اس میں انسان کا اپنا ہی فائدہ ہے کہ وہ اس طریق پر اپنے مطلب کو پہنچ جاتا ہے۔“ نمازوں کے ذریعہ سے جو اس کی حاجات ہیں پوری ہوتی ہیں۔ جو اس کا مقصد زندگی ہے وہ پورا ہوتا ہے ، وہ اپنے مطلب کو پہنچتا ہے۔ فرمایا کہ : دو ” مجھے یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ آجکل عبادات اور تقویٰ اور دینداری سے محبت نہیں ہے۔ اس کی وجہ ایک عام زہریلا اثر رسم کا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی محبت سر د ہو رہی ہے اور عبادت میں جس قسم کا مزا آنا چاہیے وہ مزا نہیں آتا۔“ دو فرمایا کہ: دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس میں لذت اور ایک خاص حظ اللہ تعالیٰ نے نہ رکھا ہو۔“ ہر چیز میں لذت رکھی ہے اور انسان اس میں ایک خاص قسم کا حظ محسوس کرتا ہے۔