سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 172 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 172

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 140 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نماز کی اہمیت، اس کی فرضیت، اس کی حکمت، اس کو پڑھنے کا طریق، اس کا مقصد ، اس کا فلسفہ اور اوقات کا فلسفہ ، غرض اس موضوع پر مختلف پیرائے میں بار بار مختلف موقعوں پر اور جگہوں پر توجہ دلائی ہے۔ آپ کے بعض ارشادات اس وقت میں پیش کروں گا جو اس کی اہمیت اور حکمت پر روشنی ڈالتے ہیں۔ نمازوں کو باقاعدہ التزام سے پڑھو نمازوں کو با قاعدگی سے اور بالالتزام پڑھنے کے بارے میں نصیحت فرماتے ہوئے ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مجلس میں فرمایا کہ : دو نمازوں کو با قاعدہ التزام سے پڑھو۔“ فرمایا کہ: بعض لوگ صرف ایک ہی وقت کی نماز پڑھ لیتے ہیں۔ وہ یاد رکھیں کہ نمازیں معاف نہیں ہو تیں یہاں تک کہ پیغمبروں تک کو معاف نہیں ہوئیں۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک نئی جماعت آئی۔ انہوں نے نماز کی معافی چاہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس مذہب میں عمل نہیں وہ مذہب کچھ نہیں۔ اس لئے اس بات کو خوب یاد رکھو اور اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق اپنے عمل کر لو۔“ فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے ایک یہ بھی نشان ہے کہ آسمان اور زمین اس کے امر سے قائم رہ سکتے ہیں۔“ اگر اللہ تعالیٰ کی مرضی ہو تو تبھی زمین و آسمان قائم ہیں ورنہ نہیں۔ فرمایا کہ : دو بعض دفعہ وہ لوگ جن کی طبائع طبیعیات کی طرف مائل ہیں کہا کرتے ہیں کہ نیچری مذہب قابل اتباع ہے کیونکہ اگر حفظ صحت کے اصولوں پر عمل نہ کیا جائے تو تقویٰ اور طہارت سے کیا فائدہ ہو گا ؟“ اپنے اپنے فلسفے لوگوں نے گھڑے ہوئے ہیں۔ آپؐ فرماتے ہیں کہ :