سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 171 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 171

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 139 نہیں تو گھر کے افراد مل کر نماز باجماعت پڑھیں ۔ اس سے بچوں کو بھی ، نوجوانوں کو بھی نماز اور با جماعت نماز کی اہمیت کا احساس ہو گا۔ حقیقی رنگ میں انصار اللہ کیسے بنا جا سکتا ہے پس انصار اللہ حقیقی رنگ میں انصار اللہ تبھی بن سکتے ہیں جب اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کرنے اور اس پر عمل کرنے اور کروانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اگر اللہ تعالیٰ کی عبادت جو انسان کی پیدائش کا مقصد ہے اس پر عمل نہیں کر رہے اور جن کے نگر ان بنائے گئے ہیں ان سے عمل نہیں کردار ہے یا عمل کروانے کی کوشش نہیں کر رہے، اپنے نمونے پیش نہیں کر رہے تو صرف نام کے انصار اللہ ہیں۔ آج تلواروں اور تیروں کی جنگ نہیں ہو رہی جہاں مدد گاروں کی ضرورت ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو فرمایا ہے کہ : ہمارا غالب آنے کا ہتھیار دعا ہے ۔ “ (ماخوذ از ملفوظات جلد 9 صفحہ 28) دعا کے ہتھیار کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے پس انصار اللہ بننے کے لئے اس دعا کے ہتھیار کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق اس ہتھیار کو استعمال کیا جائے اور جب یہ ہو گا تبھی ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کا بھی صحیح حق ادا کرنے والے ہوں گے۔ ورنہ آپ نے بار بار یہی فرمایا ہے کہ اگر میری باتوں کو نہیں ماننا اور اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا نہیں کرنی، اپنی عبادتوں کے حق ادا نہیں کرنے تو پھر میری بیعت میں آنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد 10 صفحہ 140) پس ہر ناصر کو خاص طور پر اپنے جائزے لینے چاہئیں کہ کس حد تک وہ نماز کے پابند ہیں۔ کس حد تک وہ اپنا نمونہ اپنے بچوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ ان کی نمازوں کی حالت اور کیفیت کیا ہے۔ کیا صرف ایک فرض اور بوجھ سمجھ کر نمازیں ادا ہو رہی ہیں یا حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے لئے ہم یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔