سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 170 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 170

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 138 انصار اللہ کاہر ممبر نماز با جماعت کا عادی ہو آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجلس انصار الله یو کے کا سالانہ اجتماع شروع ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے میں انصار کو ایک انتہائی اہم اور بنیادی چیز کی طرف توجہ دلانی چاہتا ہوں اور وہ ہے نماز۔ نماز ہر مومن پر فرض ہے لیکن چالیس سال کی عمر کے بعد جبکہ یہ احساس پہلے سے بڑھ کر پیدا ہونا چاہیے کہ میری عمر کے ہر دن کے بڑھنے سے میری زندگی کے دن کم ہو رہے ہیں ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور نماز کی طرف زیادہ توجہ پیدا ہونی چاہیے کہ وقت تیزی سے آرہا ہے جب میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہے اور وہاں ہمارے ہر عمل کا حساب کتاب ہونا ہے۔ پس ایسی حالت میں ایک مومن کی، ہر اس شخص کی جس کو مرنے کے بعد کی زندگی اور یوم آخرت پر ایمان ہے، فکر ہونی چاہیے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے بھی حق ادا کرنے والے ہوں اور اس کے بندوں کے بھی حقوق ادا کرنے والے ہوں اور ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں جب اپنی کوشش کے مطابق یہ حقوق ادا کر رہے ہوں۔ نماز کے پڑھنے کی طرف جب بھی اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی ہے تو اس طرف توجہ دلائی کہ نماز میں باقاعدگی بھی ہو ، تمام نمازیں وقت پر ادا ہوں اور باجماعت ادا ہوں۔ نماز کے قائم کرنے کا حکم ہے اور نماز کے قائم کرنے کا مطلب ہی نماز کو وقت پر اور باجماعت ادا کرنا ہے۔ لیکن دیکھنے میں آیا ہے ، انصار اللہ والے بھی اپنی رپورٹوں سے جائزہ لیتے ہوں گے اور جائزہ لینا چاہیے کہ باوجود اس کے کہ انصار کی عمر ایک پختہ اور سنجیدگی کی عمر ہے نماز با جماعت کی طرف اس طرح توجہ نہیں ہے جو ہونی چاہیے۔ پس انصار اللہ کو خاص طور پر سب سے زیادہ اس بات کی طرف توجہ دینی چاہیے کہ ان کا ہر ممبر نماز با جماعت کا عادی ہو بلکہ ہر ناصر کو خود اپنا جائزہ لینا چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ وہ نماز با جماعت کے عادی ہوں۔ سوائے بیماری اور معذوری کی صورت کے نماز باجماعت ادا کرنے کی انتہائی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر قریب کوئی مسجد اور نماز سینٹر نہیں ہے تو علاقے کے کچھ لوگ کسی گھر میں جمع ہو کر نماز باجماعت پڑھ سکتے ہیں۔ اگر یہ سہولت بھی