سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 162 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 162

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 130 سے زیادہ محبوب اور اس کے زیادہ قریب انصاف پسند حاکم ہو گا اور سخت ناپسندیدہ اور سب سے زیادہ دور ظالم حاکم ہو گا۔ (سنن الترمذی ابواب الاحكام باب ما جاء في الامام العادل )1329( حديث پس اپنی ذمہ داریوں کو انتہائی باریکی سے ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تبھی انصاف کے تقاضے بھی پورے ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ جو حاجتمندوں، ناداروں، غریبوں کے لئے اپنا دروازہ بند رکھتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی ضروریات کے لئے آسمان کا دروازہ بند کر دیتا ہے۔ (سنن الترمذی ابواب الاحكام باب ما جاء فى امام الرعية حديث 1332) پس امیر سے لے کر ایک چھوٹے سے حلقے کے عہدیدار تک ہر ایک عہدیدار کا کام ہے کہ نظام جماعت جو خلیفہ وقت کے گرد گھومتا ہے اور مہدیدار اس کی نمائندگی میں ہر جگہ مقرر کئے گئے ہیں اپنے فرائض پورے کریں۔ خدا تعالیٰ سے ہمیشہ اس کا فضل مانگتے رہیں۔ مقصد تنظیموں کے قیام کا یہ تھا کہ جماعت کا ہر طبقہ فعال ہو جائے اسی طرح ذیلی تنظیموں کے مہدیدار بھی اپنی ذمہ داریاں سمجھیں۔ ذیلی تنظیمیں بھی ، انصار بھی، لجنہ بھی، خدام بھی، ہر سطح پر فعال ہوں۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقصد تنظیموں کے قیام کا یہ تھا کہ جماعت کا ہر طبقہ فعال ہو جائے اور مختلف ذرائع سے جماعت کی ترقی کی کوشش ہوتی رہے اور افراد جماعت کے ہر طبقہ تک پہنچا جا سکے۔ عورتوں تک بھی ، بچوں تک بھی ، نوجوانوں تک بھی ، بوڑھوں تک بھی تاکہ خلیفہ وقت کو ہر ذریعہ سے خبر بھی پہنچتی رہے۔ اس بارے میں بھی اس کو علم ہو تار ہے کہ جماعت کی کیا حالت ہے۔ پس ہر عہدیدار جو ہے ، وہ خدمت دین کو اللہ تعالیٰ کا احسان سمجھتے ہوئے کرے اور ایک دوسرے سے تعاون بھی کریں۔ نظام جماعت صدران، امراء اور ذیلی تنظیموں کا بھی ایک دوسرے سے باہمی تعاون ہونا چاہیے۔ اگر یہ باہمی تعاون ہو اور تمام ذیلی تنظیمیں اور جماعتی نظام بھی فعال ہو تو جماعت کی ترقی کی رفتار کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ پس اس بات کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہیے۔