سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 161 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 161

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 129 دوسروں سے خوش خلقی سے پیش آنے کے بارے میں ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ معمولی نیکی کو بھی حقیر نہ سمجھو چاہے وہ اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے پیش آنے کی نیکی ہو۔ (صحیح مسلم کتاب البر والصلة والآداب باب استحباب طلاقة الوجه عند اللقاء )2626( حديث اللہ تعالیٰ تو ہر عمل کی جزا دیتا ہے۔ خوش خلقی سے پیش آنا بھی انسان کی نیکیوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ پس ہر ایک کو ہر ذریعہ سے اپنی نیکیوں کے پلڑے کو بھاری رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ عہدہ بڑائی پیدا کرنے کے لئے نہیں ہے بلکہ عاجزی میں بڑھانے کے لئے ہے عہدیداروں کو ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جماعت کا کوئی عہدہ بھی کسی قسم کی بڑائی پیدا کرنے کے لئے نہیں ہے بلکہ عاجزی میں بڑھانے کے لئے ہے۔ اس لئے ہر فیصلہ اور ہر کام اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھتے ہوئے اور انتہائی عاجزی سے انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صاحب اختیار اور حاکموں کو جو تنبیہ فرمائی ہے اگر ہر عہدیدار اسے سامنے رکھے تو یقیناً اپنے کام کے معیار اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کا نگر ان اور ذمہ دار بنایا ہے وہ اگر لوگوں کی نگرانی اور اپنے فرائض کی ادائیگی اور ان کی خیر خواہی میں کو تاہی کرتا ہے تو اس کے مرنے پر اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت حرام کر دے گا۔(صحیح البخاري كتاب الاحكام باب من استرعى رعية فلم ينصح حديث (7151) یہ دیکھیں کتنا سخت انذار ہے اور انسان کو ہلا دینے والا ہے۔ اگر خدا تعالیٰ اور آخرت پر یقین ہو تو ہر عہدیدار اپنا ہر کام انتہائی خوف کی حالت میں کرے۔ ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو لوگوں میں