سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 160
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 128 خالصہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے اس فضل کی بڑی عاجزی سے قدر کریں اور خلیفہ وقت نے آپ پر جو اعتماد کیا ہے اور اعتماد کرتے ہوئے ا ہوئے اس پیاری جماعت کی نگرانی کا کام سپر د کیا ہے اس کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں۔ صدر اور عہدیدار اپنی جماعت کے ہر فرد بڑے اور چھوٹے کو یہ احساس دلائیں کہ وہ محفوظ پروں کے نیچے ہے جس طرح مرغی اپنے بچوں کو پروں میں لے لیتی ہے۔ ہمیشہ ہر ایک سے نرمی سے اور مسکراتے ہوئے بات کریں۔ دفتر کی کرسی آپ میں تکبر کے بجائے عاجزی پیدا کرنے والی ہو۔ ہر مہدیدار کے بھی اور ہر مربی کے بھی دروازے ہر شخص کے لئے کھلے ہوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ ہمیں ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ روایت میں آتا ہے کہ آپ ہمیشہ مسکرا کر ملا کرتے تھے۔(صحیح البخاری کتاب الادب باب التبسم والضحك حديث (6089) معاملات کو نمٹانے میں جلدی کیا کریں بعض لوگوں کو یہ بھی شکوہ ہوتا ہے کہ ہمارا کوئی معاملہ جماعتی نظام کے پاس جاتا ہے تو پھر مہینوں اس کا پتا نہیں چلتا حالانکہ میں گزشتہ سال میں بھی کئی دفعہ خطبہ میں اس بارے میں یاد دہانی کرا چکا ہوں۔ معاملات کو نپٹانے میں جلدی کیا کریں۔ لڑکا یا نہ کریں۔ دوسرے اگر معاملہ کسی وجہ سے مجبوراً لمبا ہو رہا ہے جس کی بعض دفعہ جائز وجہ ہوتی ہے تو جو ضروری تحقیق تھی اگر وہ مکمل نہیں ہو رہی تو پھر متاثرہ فریق کو یا شکایت کنندہ کو یا اگر دونوں فریقین ہیں تو ان کو بتا دیں کہ کچھ دیر لگے گی۔ ان کے خط کو بہر حال acknowledge کرنا چاہیے۔ اگر متاثرین کو جواب دے کر تسلی کروادی جائے اور عہدیدار خاص طور پر صدر اور امراء مسکراتے کے ساتھ لوگوں میں تو فریق کی آدھی دور مسکراتے چہرے کے ساتھ لوگوں کو ملیں تو متاثرہ فریق کی آدھی کوفت دور ہو جاتی ہے اور آدھے شکوے ختم ہو جاتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ہمیں چھوٹی سے چھوٹی بات سمجھا دی کہ کیسے ہمارے اخلاق ہونے چاہئیں۔ اگر ان پر عمل کریں تو صدران، امراء اور عہدیداران سے جو لوگوں کو یہ شکوہ وہ ہوتا ہے کہ ان کے رویے سے بے چینیاں پیدا ہوتی ہیں ، و ہیں ، وہ بے چینیاں پیدا نہ ہوں۔