سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 159
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 127 اس بات کی پابندی کرنی چاہیے کہ ان کے گھروں میں ۔۔۔ منفی باتیں نہ ہوں ایک واقف زندگی زندگی بھر کا وقف کرتا ہے۔ اس نے اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر کام کرنے کے لئے پیش کر دی جبکہ ایک عہدیدار چند سال کے لئے عارضی طور پر عہد یدار بنایا جاتا ہے۔ پس اگر وہ یعنی عہدیدار جماعت کے لئے مفید وجود نہیں بنتا اور تعاون کی بجائے مسائل پیدا کرتا ہے تو خدا تعالیٰ سے دعا مانگیں کہ ایسے عہدیدار سے اللہ تعالیٰ جان چھڑا دے۔ کیونکہ مربیان کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ عہدیداروں کے لئے دعا بھی کیا کریں کہ وہ صحیح رستے پر چلنے والے ہوں۔ اللہ تعالیٰ عالم الغیب بھی ہے اور سب طاقتوں کا مالک بھی ہے۔ اس کے نزدیک اگر عہدیدار کو اس کے عہدہ سے ہٹانا بہتر ہو تو یہ کر دے گا اور اگر اللہ تعالیٰ کی نظر میں اس عہدیدار کی بعض دوسری خوبیوں کی وجہ سے خدمت میں رہنا بہتر ہے تو یہ کمزوریاں جو بعض مسائل پیدا کرتی ہیں اللہ تعالیٰ اس دعا کو قبول کرتے ہوئے ان کی اصلاح کر دے گا۔ تو یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ مربی نے تو ہر جگہ تعاون کرنا ہے اور دعا کرنی ہے۔ اسی طرح میں عہدیداروں اور مربیان دونوں کو یہ بات بھی کہنا چاہتا ہوں کہ جب ہم افراد جماعت سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ ان کے گھروں میں عہدیداروں کے متعلق باتیں نہ ہوں یعنی منفی باتیں تو پھر صدران اور امراء اور عُہدیداران اور اسی طرح مربیان کو بھی ہمیشہ اس بات کی پابندی کرنی چاہیے کہ ان کے گھروں میں بھی ایک دوسرے کے متعلق کسی قسم کی منفی باتیں نہ ہوں۔ ہاں مثبت باتیں بیشک ہوں تاکہ مربیان کی نسلوں میں بھی اور عہدیداران کی نسلوں میں بھی نظام جماعت اور واقفین زندگی اور کسی بھی رنگ میں جماعت کی خدمت کرنے والوں کا احترام پیدا ہو۔ افرادِ جماعت کے لئے بھی ہمیشہ پیار اور محبت کے پر پھیلائیں عہدیداران اور خاص طور پر صدران اور امراء یہ بھی یاد رکھیں کہ افراد جماعت کے لئے بھی ہمیشہ پیار اور محبت کے پر پھیلائیں۔ کسی قسم کا عہدہ ملنا آپ کا کوئی حق نہیں تھا، نہ ہے۔ یہ