سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 158 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 158

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 126 عہدیداران کا کام بلکہ ذمہ داری ہے کہ مبلغین بلکہ جتنے بھی واقفین زندگی ہیں ان کا ادب اور احترام اپنے دل میں بھی پیدا کریں اور افراد جماعت کے دلوں میں بھی پیدا کریں۔ ان کی عزت کرنا اور کروانا آپ لوگوں کا کام ہے تا کہ مربی اور مبلغ اور واقف زندگی کے مقام کی اہمیت واضح ہو اور زیادہ سے زیادہ نوجوان جماعتی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں۔ واقفین زندگی کے ساتھ روٹیوں میں انتہائی عاجزی اور تعاون کے جذبے کو بڑھائیں پس صدران اور امراء اور عہدیداران مربیان کے ساتھ اور واقفین زندگی کے ساتھ روٹیوں میں انتہائی عاجزی اور تعاون کے جذبے کو بڑھائیں تاکہ آئندہ مربیان کا حصول آسان ہو اور نوجوانوں کے دلوں میں زیادہ سے زیادہ مربی اور مبلغ بننے اور زندگی وقف کرنے کی تحریک پیدا ہو۔ جیسا کہ میں نے کہا ہمیں بہت بڑی تعداد میں مربیان چاہئیں۔ واقفین کو نوجوانوں کو اور میدان عمل میں نوجوان مربیان کو بھی میں یہ کہنا چاہوں گا کہ دنیا چاہے آپ کے مقام کو سمجھے یا نہ سمجھے ۔ کوئی صدر ، امیر یا عہدیدار بلکہ کوئی فرد جماعت بھی آپ کی عزت اور احترام کرے یا نہ کرے آپ نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ قربانی کرنے کا جو عہد کیا ہے اسے نیک نیتی سے نبھاتے رہیں۔ آپ کی نظر اس بات پر ہو کہ پہلے میرے ماں باپ نے پیدائش سے پہلے مجھے وقف کیا اور پھر جوانی میں قدم رکھ کر میں نے اپنے وقف کی تجدید کی اس لئے میں نے دنیا کی طرف نہیں دیکھنا بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف دیکھنا ہے اور خدا تعالیٰ کی جماعت کی ضرورت کو دیکھنا ہے۔ اس لئے میں جامعہ میں جانے کے لئے اپنے آپ کو پیش کروں گا اور جب مربی بن گئے تو پھر ہر معاملے میں خدا تعالیٰ کے آگے ہی جھکنا ہے اور لوگوں کے رویوں کی کچھ پرواہ نہیں کرنی۔ یعنی انسان تو ویسے ہی ہمیشہ خدا تعالیٰ کے آگے ہی جھکتا ہے اور جھکنا چاہیے لیکن یہاں مراد یہ ہے کہ پھر یہ نہیں دیکھنا کہ عہدیدار کیا کہہ رہے ہیں۔ اگر کوئی شکوے اور ایسی باتیں پیدا بھی ہو جائیں تب بھی بجائے بندوں سے اظہار کرنے کے خدا تعالیٰ کے آگے جھکنا ہے۔ لوگوں کے روٹیوں کی پرواہ نہیں کرنی۔