سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 149
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 117 بلکہ صدران اور اُن کی عاملہ کے ممبران بھی شامل ہیں جن کو اپنے جائزے لینے چاہئیں کہ کیا وہ انصاف کے تمام تقاضے پورے کر رہے ہیں۔ ۔۔۔ ہر جگہ اپنے رویوں کو درست کرنے کی ضرورت ہے ورنہ انصاف کے تقاضے پورے نہ کر کے نہ صرف امانت اور مہدوں کا خیال نہیں رکھ رہے بلکہ خیانت کے مر تکب ہو رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ خدمت کر کے ثواب لینے کی بجائے نا انصافیاں کر کے یا متکبرانہ رویے دکھا کر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی لینے والے بن جاتے ہیں۔ پس جہاں غلطیاں ہوتی ہیں وہاں غلطیوں کو چھپانے کے لئے عذر لنگ تلاش کرنے کی بجائے ، غلط قسم کے غذر تلاش کرنے کی بجائے استغفار کرتے ہوئے اپنی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔ خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کی خاطر ہر ایک عہدیدار کو کام کرنا چاہیے پس ہمارے عہدیداروں کو اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ کیا وہ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق انصاف کے تمام تقاضے پورے کر رہے ہیں؟ اپنے کام سے بھی انصاف کر رہے ہیں اور جن سے واسطہ پڑ رہا ہے ان سے بھی انصاف کر رہے ہیں ؟ صرف صدر ہونا یا سیکرٹری ہونا یا امیر ہونا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ یہ عہدے نہ کسی کی بخشش کے سامان کرنے والے ہیں، نہ ہی اللہ تعالی پر اور اس کی جماعت پر کوئی احسان ہے۔ اگر یہ اپنی امانتوں اور مہدوں کے اس طرح حق ادا نہیں کر رہے جس طرح خدا تعالیٰ چاہتا ہے اور خالص ہو کر ادا نہیں کر رہے تو کوئی فائدہ نہیں۔ پس ہر فیصلہ میں انصاف کے تمام تقاضے پورے کریں اور خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کی خاطر ہر ایک عہدیدار کو کام کرنا چاہیے ۔ اگر کوئی معاملہ سامنے آئے جس کے بارے میں پہلے غلط فیصلہ ہو چکا ہے تو جیسا کہ میں نے کہا اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے ان فیصلوں کو درست کریں۔ اپنے اخلاق کو بھی درست کریں اور اللہ تعالیٰ کے اِس حکم کو بھی یاد رکھیں کہ وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا (البقرہ:84) کہ لوگوں کے ساتھ نرمی اور ملاطفت سے بات کرو، اعلیٰ اخلاق سے بات کرو۔