سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 148
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 116 ہر کارکن کا کام ہے کہ ہر آنے والے کے ساتھ عزت اور احترام سے پیش آئے اسی طرح لوگوں سے معاملات اور dealing میں جنرل سیکرٹری کا شعبہ ہے۔ جنرل سیکرٹری اور اس کے دفتر میں کام کرنے والے ہر کارکن کا کام ہے کہ ہر آنے والے کے ساتھ عزت اور احترام سے پیش آئے۔ یہ نہیں کہ جو پسندیدہ لوگ ہیں اور دوست ہیں ان کے لئے اور روتے ہوں اور جو نا واقف ہیں یا جن کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں ہیں، ان کے ساتھ منفی رویے ہوں۔ اور باقی شعبوں کے افسران کو جن جن کی بھی Public dealing ہے اس بات کی نگرانی کرنی چاہیے کہ ان کے ساتھ کام کرنے والا ہر کارکن اور مدد گار انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اپنا کام کر رہا ہے یا نہیں۔ یہ امانتیں ہیں جو کام کرنے والوں کے سپرد کی گئی ہیں اور کوئی خدمت کسی کے بھی سپرد کرتے وقت اس سے چاہے یہ عہد لیا جائے یا نہ کہ میں اپنے کام اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے سر انجام دوں گا۔ اس کا کسی بھی خدمت کو قبول کرنا ہی یہ عہد بن جاتا ہے کہ میں انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے کام کروں گا۔ (اور ) یہ ایک ایسی امانت ہے جس کی ذمہ داری قبول کر نا خالصہ اللہ تعالیٰ کی خاطر ہونا چاہیے۔ ویسے تو ہر مومن اس بات کا پابند ہے کہ وہ اپنی امانت اور عہد کی حفاظت کرے اور اس کا حق ادا کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں بھی فرماتا ہے کہ وَالَّذِينَ هُمْ لا مُنْتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ (المومنون : 9) کہ مومن وہ ہیں جو اپنی امانتوں اور عہدوں کا خیال رکھتے ہیں لیکن جو خالصہ اللہ کام کرنے والے ہیں یا کرتے ہیں یا یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی خاطر کام کر رہے ہیں۔ جن کے سپر د خاص طور پر ذمہ داریاں کی گئی ہیں انہیں ایک عام مومن سے بھی بڑھ کر کس قدر محتاط ہونا چاہیے۔ استغفار کرتے ہوئے اپنی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے یہاں یہ بھی واضح کر دوں کہ صرف یہ نہ سمجھیں کہ مرکزی عہدیدار ہی مخاطب ہیں