سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 150
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 118 جیسا کہ میں نے کہا کہ دنیا کے ہر ملک میں عہدیداروں کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے ۔۔۔ اس لحاظ سے ہمیں ہر معاملے میں اپنے نمونے قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارا ہر عہدیدار خاص طور پر اور ہر احمدی عموماً دنیا کے سامنے ایک رول ماڈل ہونا چاہیے ۔ جہاں دنیا میں فتنے فساد اور افراتفری اور حقوق غصب کرنے کے نمونے نظر آتے ہیں وہاں جماعت میں انصاف اور حقوق کی ادائیگی کے نمونے نظر آنے چاہئیں۔ اس تعارف سے دنیا والے دیکھیں گے کہ جماعت کس طرح کی ہے۔ ہر فرد جو ہے وہ ایک نمونہ ہے ۔۔۔ جماعت کا ہر عہدیدار اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے پھر ایک حدیث میں آپ نے فرمایا جو عہدیداروں کو بھی سامنے رکھنی چاہیے اور ہر احمدی کو بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تین اُمور کے بارے میں مسلمان کا دل خیانت نہیں کر سکتا اور وہ تین باتیں یہ ہیں۔ خدا تعالیٰ کے لئے کام میں خُلوص نیت۔ دوسرے ہر مسلمان کے لئے خیر خواہی۔ اور تیسرے جماعت مسلمین کے ساتھ مل کر رہنا۔ ۔۔۔ جماعت کا ہر عہدیدار اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے۔ اپنے عہدوں اور اپنی امانتوں کو پورا کرنے والا اور ادا کرنے والا ہو۔ اپنی تمام ذمہ داریوں کو انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ادا کرنے والا ہو۔ یہ خوبصورت تعلیم ہماری نسلوں میں بھی جاری رہے اور اس کے لئے ہمیں کوشش بھی کرنی چاہیے تا کہ جب وقت آئے تو ہم دنیا میں حقیقی انصاف قائم کر کے دکھانے والے ہوں۔ وہ انصاف جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمایا اور جس کے نمونے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق نے اس زمانے میں بھی قائم فرمائے اور جس کی توقع آپ نے اپنے ماننے والوں سے بھی رکھی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق بھی عطا فرمائے۔“ (خطبہ جمعہ فرمودہ 25 نومبر 2016 ء بحوالہ الفضل انٹر نیشنل مورخہ 16 دسمبر 2016ء صفحہ 6-7)