سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 147 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 147

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 115 اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں کہ صحیح فیصلہ کی توفیق دے پس ہر احمدی کو اور خاص طور پر یہاں میں کہوں گا عہدیداروں کو یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ کس حد تک اپنی امانتوں کے حق ادا کرتے ہوئے انصاف اور عدل کے اس معیار پر قائم ہیں کہ ان کا ہر فیصلہ جو ہے وہ انصاف کے اعلیٰ معیاروں کو حاصل کرنے والا ہو۔ ۔۔۔ بعض عہدیداروں یا اُن لوگوں کے بارے میں جن کے پاس با قاعدہ عہدہ تو نہیں لیکن بعض خدمات سپرد کی گئی ہیں، لوگوں کو شکایت ہے کہ وہ انصاف سے کام نہیں لیتے۔ بعض اپنے قریبیوں کے حق میں فیصلہ کارجحان رکھتے ہیں یا فیصلے کرتے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ کسی نہ کسی کے حق میں فیصلہ ہونا ہوتا ہے اور دوسرے فریق کے خلاف فیصلہ ہونا ہے لیکن دونوں فریقین کو یہ تسلی ہونی چاہیے کہ ہماری بات سنی گئی ہے اور سننے کے بعد فیصلہ کرنے والے نے اپنی عقل کے مطابق نتیجہ اخذ کیا ہے۔ جن معاملات میں Public dealing ہوتی ہے ان میں ایک تو قضاء کا شعبہ ہے جو لوگوں کے آپس کے اختلافات میں فیصلہ کرتا ہے۔ پھر اُمورِ عامہ کا شعبہ ہے، اس کا بھی کچھ نہ کچھ تعلق ہے۔ پھر تربیت کا شعبہ ہے اور اصلاحی کمیٹی کا بھی کام ہے۔ پھر بعض معاملات میں تحقیق کے لئے کمیشن بنائے جاتے ہیں، ان کا بھی بعض دفعہ یہ کام ہو جاتا ہے اور کمیشن بھی فریقین کی باتیں سنتا ہے۔ پس ہر شعبہ کا کام ہے کہ فیصلہ کرتے وقت اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ غور اور تدبر اور ہر چیز کی باریکی کو سامنے رکھتے ہوئے اور اس باریکی کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرے۔ دعا کریں، اللہ تعالی سے مدد مانگیں کہ صحیح فیصلہ کی توفیق دے۔ کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے دعا ضرور کرنی چاہیے۔ بعض ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم فیصلہ کرنے سے پہلے جب تک کچھ نفل نہ پڑھ لیں فیصلہ نہیں کرتے۔ لیکن ایسے بھی ہیں جو بعض دفعہ لا پرواہی سے فیصلے کر جاتے ہیں یا کسی ذاتی رجحان کی وجہ سے فیصلے کر جاتے ہیں۔