سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 141
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 109 اجتماع کا مقصد اللہ تعالیٰ سے تعلق اور آپس میں محبت و اخوت میں بڑھنا ہے آج سے مجلس انصار اللہ اور لجنہ اماء اللہ UK کا اجتماع شروع ہو رہا ہے۔ ہمارے اجتماعات کی اصل روح تو یہ ہے جس کے لئے کوشش ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق اور آپس میں محبت واخوت میں بڑھا جائے۔ علمی پروگرام اور مقابلے اس روح کے ساتھ ہونے چاہئیں کہ ہم نے ان باتوں سے کچھ سیکھ کر اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا ہے۔ بعض کھیلوں کے بھی پروگرام ہوتے ہیں تو اس لئے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کے لئے صحت مند جسم بھی ضروری ہے ورنہ نہ ہی انصار اللہ کی کھیل کود کی عمر ہے اور نہ ہی بائیس تیس سال کی عمر کے بعد عموماً عور تیں کھیلوں میں کوئی زیادہ شوق رکھتی ہیں۔ پس ورزشی مقابلوں کا مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ اپنی جسمانی صحت کی طرف توجہ رہے اور صرف مقابلوں میں حصہ لینے والے نہیں بلکہ دوسرے بھی کم از کم سیر یا پھر ہلکی پھلکی ورزش سے اپنے جسموں کو چست رکھیں۔ تو بہر حال ان اجتماعوں کا اصل مقصد تو یہ ہے کہ ہمیں اپنی دینی اور علمی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی طرف توجہ ہو۔ انصار کی ذمہ داریوں۔۔۔ کا خلاصہ انصار اللہ کے عہد میں بیان ہو گیا صدر صاحب انصار اللہ نے مجھے کہا کہ خطبہ میں انصار کو مخاطب کر کے کچھ کہہ دیں۔ انصار اللہ کی عمر تو ایک ایسی عمر ہے جس میں انسان کی سوچ mature ہوتی ہے، پختہ ہوتی ہے اور خود انہیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے اور ان ذمہ داریوں کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ ایک تو پختہ عمر ہونا اور دوسرے ان بڑی عمر کے لوگوں کی مجلس کا نام انصار اللہ ہونا ہر ممبر کو، ہر احمدی مرد کو جو چالیس سال سے اوپر ہے اپنی ذمہ داری کی ادائیگی کا احساس دلانے کے لئے کافی ہے۔ یہ ذمہ داری یا ذمہ داریاں کیا ہیں جن کو ایک ناصر کو ادا کرنا چاہیے ؟ ان کا خلاصہ انصار اللہ کے عہد میں بیان ہو گیا۔