سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 142 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 142

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 110 انصار اللہ کے معیار سب سے اعلیٰ ہونے چاہئیں پہلی بات یہ کہ ہر ناصر ، ہر شخص جو مجلس انصار اللہ کا ممبر ہے اسلام کی مضبوطی اور احمدیت پر سچے دل سے قائم ہونے کی کوشش کرے اور اسلام کی مضبوطی کے لئے کوشش اپنے علم اور طاقت سے نہیں ہو سکتی۔ اسلام اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا دین ہے اور تعلیم کے لحاظ سے کامل اور مکمل دین ہے۔ اس میں کسی انسان نے تو کوئی اور مضبوطی پیدا نہیں کرنی ہے۔ ہاں اپنے آپ کو اس سے مضبوط تعلق پیدا کرنے کے لئے کوشش کی ضرورت ہے تا کہ اس کامل اور مکمل دین کا ہم مضبوط حصہ بن سکیں۔ اور یہ بات خدا تعالیٰ سے تعلق کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتی۔ اس کے لئے ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہیے اور انصار اللہ کے معیار سب سے اعلیٰ ہونے چاہئیں۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعلق نہ ہو جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے خود ہمیں حکم دیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود اور سلام بھیجو، اس کی طرف توجہ دو۔ پس یہ بہت ضروری چیز ہے۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت میں آنے کا حق ادا کرنا ہے۔ جب یہ حق قائم ہو گا تو تبھی احمدیت پر ہم سچے دل سے قائم ہوں گے۔ اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے تکمیل اشاعت اسلام کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا ہے اور احمدیت پر سچے دل سے قائم ہونا تبھی ثابت ہو گا جب ہم اشاعت اسلام اور تبلیغ اسلام میں بھر پور حصہ لیتے ہوئے اپنے آپ کو انصار اللہ ثابت کریں گے۔ پس ایک تو یہ ذمہ داری ہے۔ خلافت احمدیہ سے وفا کا تعلق اور اس کی حفاظت پھر آپ نے ، انصار نے اپنے عہد میں ایک عہد یہ بھی کیا یا دوسرے لفظوں میں اس ذمہ داری کو نبھانے کا، اٹھانے کا وعدہ اور اعلان کیا کہ خلافت احمد یہ سے وفا کا تعلق اور اس کی حفاظت کے لئے کوشش کریں گے ۔ یہ کوشش کس طرح ہو گی ؟ یہ کوشش تبھی ہو گی جب انصار خلافت کے کاموں اور پروگراموں کو آگے بڑھانے کے لئے اس کے مددگار بنیں گے اور یہ تبھی ہو سکتا