سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 139
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم رو 107 نماز انسان کو اطمینان قلب عطا کرتی ہے پیارے انصار بھائیو ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مجھے یہ جان کر بہت خوش ہوئی ہے کہ مجلس انصاراللہ فن لینڈ کو اپنا سالانہ اجتماع منعقد کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔ اللہ تعالی اس کا انعقاد ہر لحاظ سے بابرکت فرمائے۔ آمین مجھ سے اس موقعہ پر پیغام بھجوانے کی درخواست کی گئی ہے۔ میں آپ کو نماز کی ادائیگی کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ اللہ تعالی نے قرآن شریف میں مختلف مقامات پر نماز کا حکم دیا ہے اور اس کی اہمیت اور افادیت بیان فرمائی ہے۔ احادیث میں بھی نماز کے مسائل اور اس کی تفصیلات بیان ہوئی ہیں۔ سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک قوم مسلمان ہوئی اور انہوں نے آپ کی خدمت میں عرض کی کہ یارسول اللہ ہمیں نماز معاف کر دی جائے۔ مگر آپ نے یہی فرمایا کہ دیکھو جس مذہب میں خدا تعالیٰ کی عبادت نہیں وہ مذہب ہی کچھ نہیں۔“ (ملفوظات جلد 5 صفحہ 614) آپ سب انصار اللہ کے ممبر ہیں۔ اس عمر میں طبعی طور پر انسان کے دل میں فکرِ آخرت پیدا ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی اس عمر میں بھی نماز سے غافل ہے تو یہ بہت فکر والی بات ہے۔ نماز انسان کو اطمینان قلب عطا کرتی ہے۔ برائیوں سے اور فحشاء سے بچاتی ہے اور روحانی ترقی عطا کرتی ہے۔ یہ وہ معراج ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ کی رضا عطا کرتی ہے اور اس کی دنیا و عاقبت سنوارتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔ جو لوگ نمازوں کے پابند ہوتے ہیں وہ ہر پہلو سے اپنی دینی حالت بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان میں تبلیغ کا شوق بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ دینی خدمت کے کاموں میں مستعدی سے حصہ لینے لگتے ہیں۔ پھر وہ ہمیشہ خلافت سے بھی اپنا تعلق مضبوط کرنے کی کوشش کرتے ہیں