سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 137
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 105 ہدایات ۔۔۔ پر فوری اور پوری توجہ سے عملدرآمد کریں پھر امراء اور صدران اور جماعتی سیکرٹریان کا یہ بھی بہت اہم کام ہے کہ مرکز سے جو ہدایات جاتی ہیں یا سرکلر جاتے ہیں ان پر فوری اور پوری توجہ سے عملدرآمد کریں اور اپنی جماعتوں کے ذریعہ بھی کروایا جائے۔ بعض جماعتوں کے بارے میں یہ شکایات ملتی ہیں کہ مرکزی ہدایات پر پوری طرح عمل نہیں کیا جاتا۔ اگر کسی ہدایت کے بارے میں کسی خاص ملک یا جماعت کو ملکی حالات کی وجہ سے کچھ تحفظات ہوں تو پھر بھی فوری طور پر مرکز سے رابطہ کر کے حالات کے مطابق اس میں تبدیلی کرنے کی درخواست کرنی چاہیے اور یہ کام امیر جماعت اور صدر کا ہے۔ لیکن یہ کسی طور پر بھی مناسب نہیں کہ اپنی عقل لڑاتے ہوئے اس ہدایت کو ایک طرف رکھ کر دبا دیا جائے اور اس پر عمل نہ کروایا جائے اور نہ ہی مرکز کو اطلاع کی جائے۔ کسی بھی امیر یا صدر جماعت کی جو یہ حرکت ہے یہ مرکز گریز رویہ سمجھی جائے گی اور اس بارہ میں پھر مرکز کارروائی بھی کر سکتا ہے۔ مقامی جماعتوں کے سیکرٹریان کو فعال کریں اور ہر موصی ان کے رابطے میں ہو موصیان کے بارہ میں بھی میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ پہلی بات تو موصیان کو یہ یاد رکھنی چاہیے کہ اپنے چندے کی باقاعدہ ادائیگی اور اس کا حساب رکھنا ہر موصی کی اپنی ذمہ داری ہے۔ لیکن مرکزی دفتر اور متعلقہ سیکر ٹریان کا بھی کام ہے کہ ہر موصی کا حساب مکمل رکھیں اور جب ضرورت ہوا نہیں یاد دہانی بھی کروائیں کہ ان کے چندے کی کیا صور تحال ہے؟ ملکی جماعت کا کام ہے کہ مقامی جماعتوں کے سیکر ٹریان کو فعال کریں اور ہر موصی ان کے رابطے میں ہو۔ بعض دفعہ دیکھنے میں آتا ہے کہ کسی معاملے میں کسی شخص کے بارے میں رپورٹ منگوائی جاتی ہے اور وہ شخص موصی ہوتا ہے۔ رپورٹ میں ذکر کر دیا جاتا ہے کہ اس نے اتنے عرصے سے وصیت کا چندہ نہیں دیا۔ جب پوچھا جائے کہ وصیت کا چندہ نہیں دیا تو وصیت کس طرح قائم ہے ؟ تو پھر تحقیق کرنے پر پتا چلتا ہے کہ موصی کا قصور نہیں تھا۔ اس نے تو چندہ دیا