سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 136
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 104 عہدیداروں کو اپنی حدود کا بھی پتا نہیں ہوتا۔ ایک شعبہ ایک کام کر رہا ہوتا ہے جبکہ قواعد وضوابط میں دوسرے شعبہ میں وہ کام لکھا ہوتا ہے۔ یا بعض دفعہ ایسا بار یک فرق کاموں کے بارے میں ہوتا ہے جس پر غور نہ کرتے ہوئے دو شعبے ایک دوسرے کی حد میں داخل ہو رہے ہوتے ہیں۔ گزشتہ دنوں میں میری یہاں یوکے (UK) کی مجلس عاملہ سے بھی میٹنگ تھی وہاں بھی مجھے احساس ہوا کہ اس بار یک فرق کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بلاوجہ کی بحث شروع ہو جاتی ہے۔ اگر قواعد کو پڑھیں تو اس طرح وقت ضائع نہ ہو۔ مثلاً تبلیغ کے شعبہ نے تبلیغی مہم بھی چلانی ہے اور رابطے بھی کرنے ہیں۔ رابطوں سے ہی تبلیغ آگے پھیلے گی۔ اسی طرح شعبہ امور خارجہ ہے اس نے بھی رابطے کرنے ہیں اور جماعت کا تعارف بھی کروانا ہے۔ دونوں کا دائرہ علیحدہ ہے۔ا ہے۔ ایک نے تبلیغی مقصد کے کے لئے کام کرنا ہے۔ دوسرے نے اپنی پبلک ریلیشن کے لئے یہ کام کرنا ہے۔ تعلقات بڑھانے کے لئے یہ کام کرنا ہے۔ اصل مقصد تو جماعت کا تعارف اور دین کی طرف رہنمائی ہے تا کہ دنیا کو خدا تعالیٰ کی طرف لا کر ہم ان کی دنیا و عاقبت بھی سنوارنے کی کوشش کریں اور دنیا کے امن کی صور تحال کی طرف بھی توجہ دلائی جائے۔ دنیاوی طور پر کوئی کریڈٹ لینا تو ہمارا مقصد نہیں ہے۔ اصل مقصد تو خدا تعالیٰ کو خوش کرنا اور اس کی رضا حاصل کرنا ہے۔ اگر شعبے آپس میں تعاون سے کام کریں تو نتیجہ کئی گنا بہتر نکل سکتا ہے۔ پھر اکثر جگہوں سے اس بات کا بھی اظہار کیا جاتا ہے کہ شعبوں کے بجٹ صحیح طرح مختص نہیں کئے جاتے۔ ہر شعبے کو بجٹ جو شوریٰ میں پاس ہوا ہو تا ہے وہ بجٹ دیا جانا چاہیے اور اس کے خرچ کا متعلقہ سیکر ٹری کو اختیار ہونا چاہیے۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ سیکرٹری سال کے کام کا منصوبہ عاملہ میں پیش کرے اور اس منظور شدہ منصوبے کے مطابق خرچ ہو اور پھر کام کا جائزہ ہر عاملہ میٹنگ میں لیا جائے اور اگر منظور شدہ منصوبے میں یا کام کے طریق میں کسی تبدیلی کی ضرورت ہو یا بہتری کی گنجائش کی طرف کسی کی توجہ ہو اور دلائی جائے تو اس پر دوبارہ غور کر لیا جائے۔