سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 135
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 103 طرح موقع ہی نہ ملے۔ ہاں جو عادی ہیں، بار بار کرنے والے ہیں، بات بات پر فتنہ اور فساد پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کے ساتھ سختی بھی کرنی پڑتی ہے لیکن اس کے لئے پوری طرح تحقیق ہونی چاہیے۔ اور پھر ساتھ ہی یہ سختی بھی ذاتی عناد کی شکل اختیار کرنے والی نہیں ہونی چاہیے بلکہ اصلاح کے لئے ہونی چاہیے۔ آسانیاں پیدا کرنے کے طریق سوچیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر اپنے مقرر کردہ یمن کے والیوں کو یہ نصیحت فرمائی تھی کہ لوگوں کے لئے آسانی پیدا کرنا۔ مشکلیں نہ پیدا کرنا۔ اور محبت اور خو خوشی پھیلانا۔ نفرت کو نہ پہنچنے دینا۔ (مسند احمد بن حنبل جلد 6 صفحه 638 حدیث 19935 مسند ابو موسیٰ الاشعرى مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء ) پس یہ ایسی نصیحت ہے جو عہدیداروں اور افراد جماعت کے درمیان بھی تعلقات میں خوبصورتی پیدا کرتی ہے اور پھر اس کے نتیجہ میں آپس میں افراد جماعت میں بھی ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھنے کی روح پیدا ہوتی ہے۔ پس عہدیداروں کی اور خاص طور پر امراء، صدران اور تربیت کے شعبوں اور فیصلہ کرنے والے اداروں کی بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کے طریق سوچیں۔ لیکن یہ بھی خیال رہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کے اندر رہتے ہوئے یہ طریق اختیار کرنے ہیں۔ دنیا داروں کی طرح نہیں کہ آسانیاں پیدا کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کے حکموں کو بھول جائیں۔ ہم نے شریعت کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے، خدا تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھتے ہوئے بندوں کے بھی حق ادا کرنے ہیں اور اپنے عہدوں اور اپنی امانتوں کی بھی حفاظت کرنی ہے۔ اصل مقصد تو خدا تعالیٰ کو خوش کرنا اور اس کی رضا حاصل کرنا ہے پھر جیسا کہ میں نے کہا کہ قواعد و ضوابط کی کتاب کو ہر عہدیدار کو دیکھنا چاہیے اور اپنے شعبے کے کاموں کا علم حاصل کرنا چاہیے۔ ہر ایک کو اپنی حدود کا علم ہونا چاہیے۔ بعض دفعہ