سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 134 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 134

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 102 ہی نہیں سکتی۔ ان کے وہ اچھے نتیجے نکل ہی نہیں سکتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ پر دہ پوشی فرماتا ہے اور خود فرشتوں کے ذریعہ سے مدد فرماتا ہے۔ تبلیغ کے مثلاً کام ہیں۔ اس میں ہی ان مغربی ممالک میں بھی اللہ تعالیٰ نے یہاں پلے بڑھے ایسے نوجوان کارکن مہیا کر دیئے ہیں جنہوں نے اپنے طور پر دینی علم حاصل کیا ہے اور پھر مخالفین احمدیت کا منہ بند کرتے ہیں اور ایسے جواب دیتے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے اور پھر بہت سارے ایسے نوجوان ہیں جن کے اس طرح کے جوابوں سے مخالفین کو راہِ فرار کے علاوہ کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ پس عہدیدار خدمت دین کے موقع کو فضل الہی سمجھیں، نہ کہ اپنے کسی تجربے یا لیاقت اور قابلیت کی وجہ ۔ ایک وصف عہدیداران میں جو ہونا چاہیے وہ بشاشت اور خوش اخلاقی سے پیش آنا ہے پھر ایک وصف عہدیداران میں جو ہونا چاہیے وہ بشاشت ہے اور خوش اخلاقی سے پیش آنا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا (البقرة: 84) یعنی اور لوگوں کے ساتھ نرمی سے بات کیا کرو اور ان سے خوش اخلاقی سے پیش آؤ۔ پس یہ بھی ایک بنیادی خُلق ہے جو عہدیداروں میں بہت زیادہ ہونا چاہیے۔ اپنے ماتحتوں سے، اپنے ساتھ کام کرنے والوں سے بھی جب بات چیت کریں اور اسی طرح جب دوسرے لوگوں سے بھی بات کریں تو اس بات کا خیال رکھیں کہ ان کے ساتھ اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ ہونا چاہیے۔ بعض دفعہ انتظامی معاملات کی وجہ سے سختی سے بات کرنے کی ضرورت پڑ جاتی ہے لیکن یہ ضرورت انتہائی قدم ہے اور اگر پیار سے کسی کو سمجھایا جائے اور عہدیدار لوگوں کو یہ احساس دلا دیں کہ ہم تمہارے ہمدرد ہیں تو ننانوے فیصد ایسے لوگ ہیں جو سمجھ جاتے ہیں اور جماعت سے اس لئے تعاون کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں کہ جماعت سے ان کو ایک تعلق ہے۔ لیکن بڑی اور اہم شرط یہی ہے کہ لوگوں میں یہ احساس پیدا کیا جائے یا لوگوں کو یہ احساس ہو جائے کہ عہدیدار ہمارے ہمدرد ہیں۔ نرمی سے لوگوں سے بات کریں۔ کسی کی غلطی پر شروع میں ہی اس طرح پکڑ نہ کر لیں کہ دوسرے کو اپنی صفائی کا صحیح