سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 133 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 133

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 101 ماتحتوں کو کام سکھانے کی بھی کوشش کرنی چاہیے پھر اس حسن سلوک کے ساتھ اپنے نائبین اور ماتحتوں کو کام سکھانے کی بھی کوشش کرنی چاہیے تا کہ جماعتی کام بہتر طور پر چلانے کے لئے ہمیشہ کارکن مہیا ہوتے رہیں۔ اس میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ جماعت کے کاموں کو اللہ تعالیٰ چلاتا ہے۔ لیکن اگر افسران عہدیداران جن کو کام کا تجربہ ہے کام کرنے والوں کی دوسری لائن تیار کرتے ہیں تو ان کو اس کام کا بھی ثواب مل جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے نہ ہی مجھے ، نہ پہلے خلفاء کو کبھی یہ فکر ہوئی کہ جماعتی کام کیسے چلیں گے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے وعدہ ہے۔ وہ انشاء اللہ تعالیٰ کام کرنے والے مخلصین مہیا کر تا رہے گا۔ (ماخوذ از براہین احمدیہ ، روحانی خزائن جلد اول صفحہ 267 حاشیہ ) جماعت کے کاموں کو خدا تعالیٰ کا فضل چلا رہا ہے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کے وقت میں ایک عہدیدار کا خیال تھا کہ میری حکمت عملی اور میری محنت کی وجہ سے مالی نظام بہت عمدہ طور پر چل رہا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کو جب یہ پتا چلا تو آپ نے اس کو ہٹا کر ایک ایسے شخص کو اس کام پر مقرر کر دیا جس کو مال کی الف ب بھی نہیں پتا تھی۔ لیکن کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے اور خلیفہ وقت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا جو سلوک ہے اس وجہ سے نئے آنے والے افسر جس کو کچھ بھی نہیں پتا تھا اس کے کام میں اتنی برکت پڑی کہ اس سے پہلے کبھی تصور بھی نہیں تھا۔ پس عہدیداروں کو تو اللہ تعالیٰ موقع دیتا ہے۔ جماعتی کارکنوں کو تو اللہ تعالیٰ موقع دیتا ہے۔ واقفین زندگی کو تو خدا تعالیٰ موقع دیتا ہے کہ وہ جماعت کی اور دین کی خدمت کر کے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں ورنہ کام تو خود اللہ تعالیٰ کر رہا ہے اور یہ اس کا وعدہ ہے۔ اس لئے کسی کے دل میں یہ خیال نہیں ہونا چاہیے کہ میرا تجربہ اور میر اعلم جماعت کے کاموں کو چلا رہا ہے یا میرا تجربہ اور علم جماعت کے کاموں کو چلا سکتا ہے۔ جماعت کے کاموں کو خدا تعالیٰ کا فضل چلا رہا ہے۔ ہماری بہت ساری کمزوریاں ، کمیاں ایسی ہیں کہ اگر دنیاوی کام ہو تو ان میں وہ برکت پڑ