سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 132 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 132

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 100 وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا (لقمان: 19) اور اپنے گال لوگوں کے سامنے غصہ سے مت پھلاؤ ( اپنا منہ نہ پھلاؤ غصہ سے) اور زمین میں تکبر سے مت چلو۔ اختلاف رائے کی میں نے بات کی ہے تو اس بارے میں یہ بھی بتا دوں کہ قواعد بیشک امیر جماعت کو یہ اجازت دیتے ہیں کہ بعض دفعہ وہ عاملہ کی رائے کو رڈ کر کے اپنی رائے کے مطابق فیصلہ کرے لیکن ہمیشہ یہ کوشش کرنی چاہیے کہ سب کو ساتھ لے کر چلا جائے اور مشورے سے، اکثریت رائے سے ہی فیصلے ہوں اور کام ہوں۔ بعض جگہ امراء اس حق کو ضرورت سے زیادہ استعمال کرنے لگ جاتے ہیں۔ اس حق کا استعمال انتہائی صورت میں ہونا چاہیے۔ جہاں یہ پتا ہو کہ جماعت کا یہ مفاد ہے تو پھر وہاں عاملہ پہ واضح بھی کر دیا جائے۔ وسیع تر جماعتی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے یہ ہونا چاہیے۔ اس کے لئے دعا سے اللہ تعالیٰ کی مدد بھی لینی چاہیے۔ صرف اپنی عقل پر بھروسہ نہ کریں۔ واضح ہو کہ یہ حق صدران جماعت کو نہیں۔ جہاں نیشنل صدر ہیں وہاں بھی ان کو نہیں کہ عاملہ کی رائے کورڈ کرتے ہوئے اپنی رائے کے مطابق فیصلہ کریں۔ اپنے اپنے دائرہ کار کو سمجھنے کے لئے عہدیداران کے لئے ضروری ہے کہ قواعد و ضوابط کو پڑھیں اور سمجھیں۔ اگر قواعد وضوابط کے مطابق عمل کریں گے تو بعض چھوٹے چھوٹے مسائل جو عاملہ کے اندر یا افراد جماعت کے لئے بے چینی کا باعث بن جاتے ہیں وہ نہیں بنیں گے۔ ماتحتوں سے حسن سلوک کریں پھر ایک خصوصیت عہدیداران کی یہ بھی ہونی چاہیے کہ وہ ماتحتوں سے حسن سلوک کریں۔ جماعت کے اکثر کام تو رضا کارانہ ہوتے ہیں۔ افراد جماعت جماعتی کام کے لئے وقت دیتے ہیں۔ اس لئے وقت دیتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی رضا چاہتے ہیں۔ اس لئے وقت دیتے ہیں کہ ان کو جماعت سے تعلق اور محبت ہے۔ پس عہدیداروں کو بھی اپنے کام کرنے والوں کے جذبات کا خیال رکھنا چاہیے اور ان چاہیے اور ان سے حسن سلوک سے پیش آنا چاہیے اور یہی اللہ تعالیٰ کا بھی حکم ہے۔