سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 131
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 99 تعالیٰ کی رضا کے لئے اور جب خدا تعالیٰ کی رضا ہی نہیں رہی تو پھر ایسا شخص جماعت کے لئے بجائے فائدے کے نقصان کا موجب بن جاتا ہے۔ پس ہمیشہ عہدیداروں کو خاص طور پر اس لحاظ سے اپنے جائزے لینے چاہئیں کہ ان میں عاجزی ہے یا نہیں۔ اور ہے تو کس حد تک ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جتنازیادہ کوئی عاجزی اور خاکساری اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اتنا ہی اسے بلند مرتبہ عطا کرتا ہے۔ (صحیح مسلم کتاب البر والصلة والآداب باب استحباب العفو والتواضع حدیث (6487) پس ہر عہدیدار کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس کو اگر اللہ تعالیٰ نے جماعت کی خدمت کا موقع دیا ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے اور اس احسان کی شکر گزاری اس میں مزید عاجزی اور انکساری کا پیدا ہونا ہے۔ اگر یہ عاجزی اور انکساری مزید پیدا نہیں ہوتی تو اللہ تعالیٰ کے احسان کا شکر ادا نہیں ہوتا۔ عاجزی کے ساتھ بلند حوصلگی کا بھی اظہار ہو بسا اوقات دیکھنے میں آتا ہے کہ بعض لوگ عام حالات میں اگر ملیں تو بڑی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں۔ لوگوں سے بھی صحیح طریق سے مل رہے ہوتے ہیں۔ لیکن جب کسی کا اپنے ما تحت یا عام آدمی سے اختلاف رائے ہو جائے تو فوراً ان کی افسرانہ رگ جاگ جاتی ہے اور بڑے عہدیدار ہونے کا زعم اپنے ماتحت کے ساتھ متکبرانہ رویے کا اظہار کروا دیتا ہے۔ پس عاجزی یہ نہیں کہ جب تک کوئی جی حضوری کرتا رہے، کسی نے اختلاف نہیں کیا تو اس وقت تک عاجزی کا اظہار ہو۔ یہ بناوٹی عاجزی ہے۔ اصل حقیقت اس وقت کھلتی ہے جب اختلاف رائے ہو یا ما تحت مرضی کے خلاف بات کر دے تو پھر انصاف پر قائم رہتے ہوئے اس رائے کا اچھی طرح جائزہ لے کر فیصلہ کیا جائے۔ پس اس عاجزی کے ساتھ بلند حوصلگی کا بھی اظہار ہو گا اور جب یہ ہو گا تو یہ عاجزی حقیقی عاجزی کہلائے گی۔ عہدیدار قواعد و ضوابط پڑھیں اور سمجھیں ہمیشہ عہدیدار کو اللہ تعالیٰ کا یہ حکم سامنے رکھنا چاہیے کہ وَلَا تُصَعِرُ خَدَّكَ لِلنَّاسِ