سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 130
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 98 پس حقیقی خدمت کا جذبہ ، قربانی کا جذبہ ، اپنی امانت کا صحیح حق ادا کرنا تو یہ ہے کہ ایک فکر کے ساتھ دوسرے کے کام آیا جائے اور جب یہ قربانی کا مادہ ہو اور دوسرے کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھ کر کام کیا جائے گا تو جماعت کے افراد کا بھی معیار قربانی بڑھے گا۔ ایک دوسرے کے حق مارنے کی بجائے حق دینے کی طرف توجہ ہو گی۔ ہم غیروں کے سامنے تو یہ کہتے ہیں کہ دنیا میں امن تب قائم ہو سکتا ہے جب ہر سطح پر حق لینے اور حق غصب کرنے کی بجائے حق دینے اور قربانی کا جذبہ پیدا ہو لیکن ہمارے اندر اگر یہ معیار نہیں تو ہم ایک ایسا کام کر رہے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کو نا پسند ہے۔ ایک وصف جو خاص طور پر عہدیداروں کے اندر ہونا چاہیے وہ عاجزی ہے پھر ایک وصف جو خاص طور پر عہدیداروں کے اندر ہونا چاہیے وہ عاجزی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عباد الرحمن کی یہ نشانی بتائی ہے کہ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا (الفرقان: 64) کہ وہ زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں۔ پس اس کی بھی اعلیٰ مثال ہمارے عہدیداروں میں ہونی چاہیے۔ جتنا بڑا کسی کے پاس عہدہ ہے اتنی ہی زیادہ اسے خدمت کے جذبے سے لوگوں کے ملنے کے لحاظ سے عاجزی دکھانی چاہیے اور یہی بڑا پن ہے۔ لوگ دیکھتے بھی ہیں اور محسوس بھی کرتے ہیں کہ عہدیداروں کے رویے کیا ہیں۔ بعض دفعہ لوگ مجھے لکھ بھی دیتے ہیں کہ فلاں عہدیدار کا رویہ ایسا تھا لیکن آج مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ اس عہدیدار نے مجھے نہ صرف سلام کیا بلکہ میر احال بھی پوچھا اور بڑی خوش اخلاقی سے پیش آیا اور اس کے رویے کو دیکھ کر خوشی ہوئی اور عہدیدار کا بڑا پن ظاہر ہوا۔ پس اکثریت افراد جماعت کی تو ایسی ہے کہ وہ عہدیداروں کے پیار ، نرمی اور شفقت کے سلوک سے ہی خوش ہو کر ہر قربانی کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ اگر کسی عہدیدار کے دل میں اپنے عہدے کی وجہ سے کسی بھی قسم کی بڑائی پیدا ہوتی ہے یا تکبر پیدا ہوتا ہے تو اسے یاد رکھنا چاہیے کہ یہ چیز اللہ تعالیٰ سے دور کرتی ہے اور جب خدا تعالیٰ سے انسان دور ہو جاتا ہے تو پھر کام میں برکت نہیں رہتی اور دین کا کام تو ہے ہی خالصہ خدا