سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 129
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 97 بالکل بھی نہیں ہوتی اور اگر کوئی دوسرا بد تمیزی کر رہا ہے تو یہ بھی تو تکار شروع کر دیتے ہیں۔ اگر کوئی عام شخص بد تمیز ہے تو اس سے اسے تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس کے اخلاق تو یہی کہیں گے بڑا بد اخلاق ہے۔ اس کے اخلاق گرے ہوئے ہیں۔ لیکن جب عہدیدار کے منہ سے غلط الفاظ لوگوں کے سامنے نکلتے ہیں تو عہدیدار کی اپنی عزت اور وقار پر حرف آتا ہے اور ساتھ ہی جماعت کے افراد پر بھی اثر پڑتا ہے۔ جماعت کا جو معیار ہونا چاہیے اور جس معیار پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیں دیکھنا چاہتے ہیں اس میں اگر کہیں بھی ایک بھی ایسی مثال ہو جائے تو جماعت کی بدنامی کا موجب بنتی ہے اور بن سکتی ہے اور یہ مثالیں بعض جگہوں پہ ملتی ہیں۔ مسجدوں میں بھی جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں اور یہ باتیں بچوں اور نوجوانوں پر انتہائی برا اثر ڈالتی ہیں۔ مومن اپنے دینی بھائیوں کو اپنے نفسوں پر ترجیح دیتے ہیں اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے اور قربانی کے اعلیٰ معیار قائم کرنے والوں کا اللہ تعالیٰ نے کس طرح ذکر فرمایا ہے۔ ایک جگہ فرمایا کہ وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ (الحشر : 10) که مومن جو ہیں اپنے دینی بھائیوں کو اپنے نفسوں پر ترجیح دیتے ہیں۔ یہ مثال انصار نے مہاجرین کے لئے قائم کی۔ اور یہی ایک نمونہ ہے ہمارے لئے۔ یہ نفسوں کو ترجیح دینا تو بڑی دور کی بات ہے اور بڑی بات ہے ، بعض دفعہ تو کسی کا جو حق ہے وہ بھی پوری طرح ادا نہیں کیا جاتا۔ لوگوں کے بعض معاملات عہدیداروں کے پاس یا مرکز میں رپورٹ بھیجوانے کے لئے آتے ہیں یا مرکز سے رپورٹ بھیجوانے کے لئے بعض معاملات بھیجے جاتے ہیں تو بڑی بے احتیاطی سے معاملے کی رپورٹ دی جاتی ہے۔ صحیح رنگ میں تحقیق نہیں کی جاتی اور رپورٹ بھیجوائی جاتی ہے یا معاملے کو اتنالٹکا دیا جاتا ہے کہ اگر کسی ضرورتمند کی ضرورت پوری کرنے کے لئے کوئی درخواست ہے تو وقت پر ضرورت پوری نہ ہونے کی وجہ سے اس ضرورت مند کو نقصان ہو جاتا ہے یا تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہے۔ بعض عہدیداران اپنی مصروفیت کا بھی عذر پیش کر دیتے ہیں۔ بعض کے پاس کوئی عذر نہیں ہو تا صرف عدم توجہی ہوتی ہے۔ اگر ان کے اپنے معاملے ہوں یا کسی قریبی کے معاملے ہوں تو ترجیحات مختلف ہوتی ہیں۔