سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 128
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 96 خدمت کرنے کا عہد کیا ہے اس میں ہماری طرف سے کوئی کمی اور کو تاہی تو نہیں ہو رہی؟ کیونکہ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ بھی فرمایا ہے کہ ان الْعَهْدَ كَانَ مسْئُولًا (بنی اسرائیل: 35) کہ ہر عہد کے متعلق ایک نہ ایک دن جواب طلبی ہو گی۔ یہ عبادت تو ایک بنیادی چیز ہے اور یہی انسان کی پیدائش کا مقصد ہے اور اس کا حق تو ہم نے ادا کرنا ہی ہے۔ اس میں سستی تو ، خاص طور پر عہدیداروں کی طرف سے بالکل نہیں ہونی چاہیے بلکہ کسی بھی حقیقی مومن کی طرف سے نہیں ہونی چاہیے۔ قوم کا سردار قوم کا خادم ہوتا ہے اس کے علاوہ بھی بعض باتیں ہیں جن کا عہدیداروں کو خاص طور پر خیال رکھنا چاہیے اور یہ باتیں لوگوں کے حقوق اور افراد جماعت کے ساتھ عہدیداروں کے رویوں سے تعلق رکھتی ہیں اور اسی طرح یہ باتیں عہدیداروں کے عہدوں سے بھی تعلق رکھتی ہیں۔ کوئی عہدیدار افسر بننے کے تصور سے یا بنائے جانے کے تصور سے کسی خدمت پر مامور نہیں کیا جاتا بلکہ اسلام میں تو عہدیدار کا تصور ہی بالکل مختلف ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اس طرح بیان فرمایا ہے کہ قوم کا سردار قوم کا خادم ہوتا ہے۔ (کنز العمال کتاب السفر ، الفصل الثانى فى آداب السفر ، جزء 6 صفحہ 302 حدیث 17513 مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 2004ء) پس ایک عہدیدار کالوگوں کے معاملے میں اپنی امانت کا حق ادا کرنا اس کا قوم کا خادم بن کر رہنا ہے۔ اور یہ حالت اس وقت پیدا ہو سکتی ہے جب انسان میں قربانی کا مادہ ہو۔ اس میں عاجزی اور انکساری ہو۔ اس کا صبر کا معیار دوسروں سے اونچا ہو۔ بعض دفعہ عہدیداروں کو بعض باتیں بھی سننی پڑتی ہیں۔ اگر سننی پڑیں تو سن لینی چاہئیں۔ اپنا یہ جائزہ تو عہدیدار خود ہی لے سکتے ہیں کہ ان کا برداشت کا یہ پیمانہ کتنا اونچا ہے، کس حد تک ہے اور عاجزی کی حالت ان کی کس حد تک ہے۔ بعض دفعہ ایسے عہدیداران کے معاملات بھی سامنے آ جاتے ہیں جن میں برداشت