سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 127
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم فرمایا کہ: 95 تم میری بات سن رکھو اور خوب یاد کر لو کہ اگر انسان کی گفتگو سچے دل سے نہ ہو اور عملی طاقت اس میں نہ ہو تو وہ اثر پذیر نہیں ہوتی۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ 67) پھر فرمایا: یاد رکھو کہ صرف لفاظی اور لسانی کام نہیں آسکتی جب تک کہ عمل نہ ہو۔ اور محض باتیں عند اللہ کچھ بھی وقعت نہیں رکھتیں۔ “ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 77) عمل کے علاوہ اگر اور باتیں ہیں تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کی کوئی اہمیت نہیں۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مطابق کھول کر بتایا کہ ہمارے عمل اور قول میں تضاد نہیں ہونا چاہیے۔ پس اس بات کو سامنے رکھ کر اپنے جائزے لینے والے سب سے زیادہ ہمارے عہدیدار ہونے چاہئیں۔ جہاں مسجد یا سینٹر کی سہولت نہیں وہاں گھروں میں نمازوں کا اہتمام ہو سکتا ہے جہاں فاصلے زیادہ ہیں یا چند گھر ہیں اور مسجد یا سینٹر کی سہولت موجود نہیں وہاں گھروں میں نمازوں کا اہتمام ہو سکتا ہے اور عملاً یہ مشکل نہیں ہے۔ بہت سے احمد ی ہیں جو اس کی پابندی کرتے ہیں۔ ان کے پاس کوئی باقاعدہ خدمت بھی نہیں ہے۔ کسی عاملہ کے ممبر بھی نہیں ہیں لیکن اپنے گھروں میں ارد گرد کے احمدیوں کو جمع کر کے نماز با جماعت کا اہتمام کرتے ہیں۔ پس اگر احساس ہو تو سب کچھ ہو سکتا ہے اور ہمارے ہر عہدیدار میں نماز باجماعت کی ادائیگی کا احساس ہونا چاہیے ورنہ امانتوں کا حق ادا کرنے والے نہیں ہوں گے جس کی قرآن کریم میں بار بار تلقین کی گئی ہے۔ حقیقی مومن ۔۔۔ اپنی امانتوں اور اپنے عہدوں کا خیال رکھنے والے ہیں پس ہمیشہ عہدیداران کو یہ بات سامنے رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے حقیقی مومن کی نشانی ہی یہ بتائی ہے کہ وہ اپنی امانتوں اور اپنے عہدوں کا خیال رکھنے والے ہیں۔ ان کی نگرانی کرنے والے ہیں۔ یہ دیکھنے والے ہیں کہ کہیں ہمارے سپر د جو امانتیں کی گئی ہیں اور جو ہم نے