سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 121 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 121

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم دو 89 اپنے قول و فعل کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں ” یہاں میں ذیلی تنظیموں سے بھی کہوں گا اور جماعتی نظام سے بھی بلکہ ذیلی تنظیمیں خاص طور پر اس لئے کہ انہوں نے اپنے ممبر ان کو سنبھالنا ہے۔ ہر ایک مخصوص طبقہ ہے، زیادہ آسانی سے سنبھال سکتے ہیں ۔۔۔ ذیلی تنظیموں کی یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ اُنہیں جماعت کے ساتھ مضبوطی سے جوڑیں۔ ۔۔۔ پس عہدیدار اپنے رویے ایسے رکھیں کہ پیار سے انہیں دین کے ساتھ جوڑیں، مسجد کے ساتھ جوڑیں، اپنی مجلس کے ساتھ جوڑیں، جماعت کے ساتھ جوڑیں ورنہ شیطان تو اس تاک میں ہے کہ کہاں کوئی کمزور ہو ، کہاں کسی کو کسی عہدیدار کے خلاف کوئی شکوہ پیدا ہو اور میں حملہ کر کے اسے اپنے قابو میں کروں۔ ۔۔۔ اگر ہم اپنے عمل سے شیطان کو موقع دے رہے ہیں کہ ہمارے بچوں اور نوجوانوں کو عہدیداروں کے رویوں کی وجہ سے شیطان ہمدردی جتا کر اپنے قابو میں کرلے تو پھر ایسے عہدیدار چاہے وہ مرد ہیں یا عور تیں، مسیح موعود کے مددگار نہیں ہیں بلکہ شیطان کے مدد گار ہیں۔ پس ہر عہدیدار کو خاص طور پر یہ کوشش کرنی ہے کہ اس نے اپنے آپ کو بھی شیطان کے حملوں سے بچانا ہے اور جماعت کے افراد کو بھی بچانا ہے ۔۔۔ اسی طرح خاص طور پر وہ جن کے سپر د دینی خدمت کا کام کیا گیا ہے، افراد جماعت کی رہنمائی اور تربیت کا کام جن کے سپرد ہے، اپنے قول و فعل کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں اور اللہ تعالیٰ سے خالص ہو کر دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کی وجہ سے کسی کو شیطان کی جھولی میں نہ جانے دے بلکہ کسی طرح بھی کوئی فردِ جماعت بھی شیطان کے پیچھے چلنے والا نہ ہو۔“ 66 ( خطبه جمعه فرموده 20 مئی 2016ء بحوالہ الفضل انٹر نیشنل مورخہ 10 جون 2016ء صفحہ 7-8)