سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 122
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم دو 90 انسان کی پیدائش کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ہے سب سے بنیادی حکم جو ہمیں ہر وقت اپنے سامنے رکھنا چاہیے اور جو انسان کی پیدائش کا مقصد بھی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات: 57) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کا ترجمہ یوں فرمایا ہے کہ : میں نے جن و انس کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری پرستش کریں۔“ (براہین احمدیہ حصہ سوم۔ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 185 حاشیہ ) اس مضمون کو میں کئی مرتبہ بیان کر چکا ہوں۔ بار بار اس طرف توجہ دلاتا رہتا ہوں لیکن ہم میں سے بہت سے چند دن اسے یاد رکھتے ہیں پھر بھول جاتے ہیں حتی کہ میرے علم میں بھی ہے، اور میں نے دیکھا ہے کہ بعض واقفین زندگی بلکہ وہ جنہوں نے دینی علم بھی حاصل کیا ہوا ہے اور علمی لحاظ سے اس کی اہمیت کو سمجھتے بھی ہیں وہ بھی اس طرح توجہ نہیں دیتے جس طرح توجہ دینی چاہیے۔ پھر جماعتی عہدیدار ہیں۔ میٹنگز میں تو اپنی علمی لیاقت ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کسی کا معاملہ پیش ہو جائے تو اسے قرآن اور حدیث کے حوالے سے سمجھاتے ہیں لیکن بعض ایسے ہیں کہ خود اس بنیادی حکم پر وہ توجہ نہیں جو ہونی چاہیے۔ اپنے نمونے قائم کرنے ہیں مساجد میں نماز باجماعت ادا کرنا بھی اللہ تعالیٰ کے حکموں میں سے حکم ہے۔ پس اس رمضان میں واقفین زندگی جن کا عہد ہے کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم کرنے والوں میں، سب سے آگے رہنے والوں میں سے ہونے کی اپنی تمام تر طاقتوں کے ساتھ کوشش کریں گے اور عہدیدار جن پر افراد کی نظر ہے اور ان کو انہوں نے چنا بھی اس لئے ہوا ہے، منتخب کیا ہے کہ ہم میں سے بہتر ہیں وہ ایک نمونہ ہونے چاہئیں۔ ان کو اس بات کی پوری کوشش کرنی چاہیے کہ صرف