سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 115
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 83 دین کی باتوں کو غور سے سننا۔۔۔ اور پھر اس پر عمل کرنا ایک احمدی کا مطمح نظر ہونا چاہیے دین کی باتوں کو غور سے سننا، انہیں یاد رکھنے کی کوشش کرنا اور پھر اس پر عمل کرنا یہ ایک احمدی کا مطمح نظر ہونا چاہیے۔ خطبوں کو سن لینا، تقریروں کو سن لینا، اجلاسوں میں شامل ہو جانا یا وقتی طور پر کسی کتاب کو پڑھ لینا اور اس کا وقتی اثر لینا، اس کو یاد نہ رکھنا یا عمل نہ کرنا یہ انسان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک دفعہ عورتوں میں ان کی تربیت کے لئے مختلف لیکچر دینے شروع کئے اور کئی دن تک آپ لیکچر دیتے رہے۔ ایک دن آپؐ نے فرمایا کہ ہمیں عورتوں کا امتحان بھی لینا چاہیے تا معلوم ہو کہ وہ ہماری باتوں کو کہاں تک سمجھتی ہیں۔ باہر سے ایک خاتون آئی ہوئی تھیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان سے پوچھا۔ بتاؤ مجھے آٹھ دن لیکچر دیتے ہو گئے ہیں۔ میں نے ان لیکچروں میں کیا بیان کیا ہے۔ وہ کہنے لگیں کہ یہی خدا اور رسول کی باتیں آپ نے بیان کی ہیں اور کیا بیان کیا ہے۔ آپ کو اس جواب سے اس قدر صدمہ ہوا کہ آپ نے لیکچروں کے اس سلسلے کو بھی بند کر دیا اور فرمایا کہ ہماری عورتوں میں بھی اس قسم کی غفلت پائی جاتی ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ ابھی وہ بہت ابتدائی تعلیم کی محتاج ہیں۔ اعلیٰ درجہ کی روحانی باتیں سننے کی ان میں استعداد ہی نہیں ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ یہی بعض مردوں کا حال ہے۔ بلکہ میں تو کہوں گا کہ بہت سے مردوں کا اب یہ حال ہے۔ اب بعض جگہ تو اس کے الٹ بھی ہو رہا ہے کہ بعض عورتیں مردوں سے زیادہ علم رکھتی ہیں اور جب اپنے مردوں کو یاد کرواتی ہیں کہ یہ دین کی بات ہے اس پر عمل کرو تو بعض ایسی شکایتیں بھی آتی ہیں کہ مردوں کا جواب ہوتا ہے کہ دین تو بہت کچھ کہتا ہے ہم تو اسی طرح رہیں گے اور اسی طرح کریں گے جو ہماری مرضی ہو۔ تو یاد رکھنا چاہیے کہ جب اس قسم کی ڈھٹائی آجائے تو پھر گراوٹ ہوتی چلی جاتی ہے اور پھر انسان دین سے بالکل دُور ہٹ جاتا ہے۔ بہر حال