سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 114
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم دو 82 بڑی گہرائی میں جا کر سفارش اور فیصلے کرنے چاہئیں ” جماعتی عہدیداروں اور نظام کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہیے۔ عموماً تو خیال رکھا جاتا ہے لیکن بعض کے خلاف جو فیصلے ہوتے ہیں یا سفارش مجھے آتی ہے تو میں یہ تو نہیں کہتا کہ انتقام کی وجہ سے ہوتی ہے لیکن یہ ضرور بعض دفعہ ہوتا ہے کہ سفارش کرنے والے کا طبعاً رجحان سختی کی طرف ہوتا ہے اور بعض ضرورت رورت سے زیادہ نرمی اور معانی کا معافی کا رجحان رکھتے ہیں جس سے پھر خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ پس نہ سزا دینا پسندیدہ ہے ، نہ معاف کرنا قابل تعریف ہے۔ اصل چیز اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے اور یہ اُس وقت حاصل ہوتی ہے جب اصلاح مقصد ہو اور اس کے لئے متعلقہ محکموں کو چاہیے کہ وہ کوشش کریں چاہے وہ امور عامہ ہے یا قضا ہے کہ بڑی گہرائی میں جا کر سفارش اور فیصلے کرنے چاہئیں تا کہ وہ حقیقی نظام اور حالات ہم اپنے میں اور جماعت میں پیدا کر سکیں جو خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے ہوں اور اس کے لئے خدا تعالیٰ سے دعا اور مدد مانگنے کی بھی ضرورت ہے۔ جب بھی کوئی فیصلہ ہو دعا کے ساتھ ہو اور پھر خلیفہ وقت کے پاس سفارش ہونی چاہیے تا کہ ہر قسم کے بداثرات سے وہ شخص بھی محفوظ رہے جس کے خلاف شکایت کی جارہی ہے اور نظام جماعت بھی محفوظ رہے اور وہ فیصلہ جماعت میں کسی بھی قسم کی بے چینی کا باعث نہ بنے۔“ 66 (خطبہ جمعہ فرمودہ 22 جنوری 2016ء بحوالہ الفضل انٹر نیشنل مورخہ 12 فروری 2016ء صفحہ 7)