سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 116 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 116

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 84 حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اس کے مقابلے پر صحابہ کو دیکھو۔ وہ کس طرح رات اور دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو سنتے اور ان پر عمل کرنے کے لئے کھڑے ہو جاتے۔ انہوں نے آپ کی چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی بات کو لیا اور دنیا میں نہ صرف اس کو پھیلا دیا بلکہ اس پر عمل کر کے بھی دکھا دیا۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابیں ہیں۔ ان کو پڑھنا اور ان سے فائدہ اٹھانا بھی جماعت کے اہم ترین فرائض میں سے ہے۔ مگر یاد رکھو صرف لذت حاصل کرنے کے لئے تم ایسا مت کرو بلکہ فائدہ اٹھانے اور عمل کرنے کی نیت سے تم ان امور کی طرف توجہ کرو۔ تم لذت حاصل کرنے کے لئے سارا قرآن پڑھ جاؤ تو تمہیں کچھ فائدہ حاصل نہیں ہو گا۔ لیکن اگر تم اللہ تعالیٰ کی صفات پر غور کرتے ہوئے اس کی محبت کے جوش میں ایک دفعہ بھی سُبحان اللہ کہہ لو تو وہ تمہیں کہیں کا کہیں پہنچادے گا۔ ایک تسبیح سے ہی ہم کہیں کے کہیں پہنچ جاتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک دفعہ مجلس میں بیان فرمایا کہ بعض دفعہ ہم تسبیح کرتے ہیں تو ایک تسبیح سے ہی ہم کہیں کے کہیں پہنچ جاتے ہیں۔ میں اس مجلس میں موجود نہیں تھا۔ ایک نوجوان نے یہ بات سنی تو وہاں سے اٹھ کر میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ خبر نہیں آج حضرت صاحب نے یہ کیا کہا ہے۔ وہ صاحب تجربہ نہیں تھا مگر میں اس عمر میں بھی صاحب تجربہ تھا حالانکہ میری عمر اس وقت سترہ اٹھارہ سال کی تھی۔ میں نے جب اس سے یہ بات سنی تو میں نے کہاہاں ایسا ہوتا ہے۔ کہنے لگا کس طرح؟ میں نے کہا کئی دفعہ میں نے دیکھا ہے کہ میں نے اپنی زبان سے ایک دفعہ سبحان اللہ کہا تو مجھے یوں معلوم ہوا کہ جیسے میری روحانیت اُڑ کر کہیں سے کہیں جا پہنچی ہے۔ وہ دل سے نکلی ہوئی سبحان اللہ ہوتی ہے۔ صرف منہ سے نہیں ہوتی۔ تو وہ یہ سنتے ہی نہایت تحقیر سے کہنے لگا کہ لا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ ۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ اس نے کبھی سنجیدگی سے سُبحان اللہ کے مضمون پر غور ہی نہیں کیا۔ اسے سارا سارا دن سبحان اللہ کہہ کر کچھ نہیں ملتا تھا مگر میں اپنے ذاتی تجربے کی وجہ سے جانتا تھا کہ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ جب میں نے سبحان اللہ کہا تو مجھے یوں محسوس ہوا کہ پہلے میں اور تھا اور اب میں کچھ اور بن گیا ہوں۔ دیکھو