سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 113
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 81 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی صداقت اور کامیابی آپ کے قول و دو فعل میں مطابقت تھی یہ بنیادی نصیحت خاص طور پر عہدیداروں کو بھی یاد رکھنی چاہیے جو دوسروں سے تو اپنے اندر تبدیلی کی توقع رکھتے ہیں، ان کو نصائح کرتے ہیں لیکن اگر اپنے معاملہ میں ایسی صور تحال پید ا ہو جائے تو بالکل اس کے الٹ کرتے ہیں یا اس میں حیل و حجت کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے حکموں کو اور اس کے رسول کے حکموں کو پھر ثانوی حیثیت دے دیتے ہیں۔ کئی ایسے معاملے سامنے آجاتے ہیں۔ پھر مزید قول و فعل میں تطابق کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ : تم میری بات سن رکھو اور خوب یاد کر لو کہ اگر انسان کی گفتگو سچے دل سے نہ ہو اور عملی طاقت اس میں نہ ہو تو وہ اثر پذیر نہیں ہوتی۔ اسی سے تو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی صداقت معلوم ہوتی ہے کیونکہ جو کامیابی اور تاثیر فی القلوب آپؐ کے حصے لے حصے میں آئی اس کی کوئی نظیر بنی آدم کی تاریخ میں نہیں ملتی اور یہ سب اس لئے ہوا کہ آپؐ کے قول اور فعل میں پوری مطابقت تھی ۔ “ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 67-68) ( خطبه جمعه فرموده یکم جنوری 2016ء بحوالہ الفضل انٹر نیشنل مورخہ 22 جنوری 2016ء صفحہ 8)