سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 105 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 105

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 73 صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قابلِ تقلید قربانیوں کا تذکرہ کا ذکر ایک موقع پر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بے مثال قربانی لر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے ایک اعلیٰ درجے کی ملازمت عطا فرمائی تھی۔ وہ چھوٹی (ختم ہوئی تو آپ نے اپنے وطن میں پریکٹس شروع کی۔ وہاں آپ کی بہت شہرت تھی۔ آپ کا وطن بھیرہ سر گو دھا کے ضلع میں ہے جہاں بڑے بڑے زمیندار ہیں اور ان میں سے اکثر آپ کے بڑے معتقد تھے۔ پس وہاں کام چلنے کا خوب امکان تھا۔ لیکن آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ملنے قادیان آئے۔ چند روز بعد جب واپسی کا ارادہ کیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ دنیا کا آپ بہت کچھ دیکھ چکے اب یہیں آ بیٹھئے۔ آپ نے اس ارشاد پر ایسا عمل کیا کہ خود سامان لینے بھی واپس نہ گئے بلکہ دوسرے آدمی کو بھیج کر سامان منگوایا۔ اس زمانے میں یہاں پریکٹس چلنے کی کوئی امید ہی نہ تھی بلکہ یہاں تو ایک پیسہ دینے کی حیثیت والا بھی کوئی نہ تھا مگر آپ نے کسی بات کی پرواہ نہیں کی۔ پھر بھی آپ کی شہرت ایسی تھی کہ باہر سے مریض آپ کے پاس پہنچ جاتے تھے اور اس طرح کوئی نہ کوئی صورت آمد کی پیدا ہو جاتی تھی مگر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی قربانی ایسے رنگ کی تھی کہ کوئی آمد کا احتمال بھی نہ تھا۔ نہ کہیں سے کسی فیس کی امید تھی، نہ کوئی تنخواہ تھی اور نہ وظیفہ ۔ کسی طرف سے کسی آمد کا کوئی ذریعہ نہ تھا مگر وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سیکرٹری کے طور پر کام کرتے تھے۔ (حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ) اس وقت جتنے کام تمام محکمے ( جماعتی ادارے) کر رہے ہیں یہ سب وہ اکیلے (کیا) کرتے تھے حالانکہ گزارے کی کوئی صورت نہ تھی اور یہ بھی وادی غیر ذی زرع میں جان قربان کرنے والی بات ہے۔“ (ماخوذ از خطبات محمود جلد 2 صفحہ 260-261) (خطبہ جمعہ فرمودہ 24 جولائی 2015ء بحوالہ الفضل انٹر نیشنل مورخہ 14 اگست 2015ء صفحہ 7)