سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 106
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 74 روحانی مائدہ کھلانا بھی ڈیوٹی دینے والوں کی ذمہ داری ہے ”ہمارے جلسوں پر علاوہ احمدیوں کے اب غیر از جماعت مہمان بھی کافی تعداد میں آتے ہیں۔ مختلف جگہوں پر وہ ٹھہرتے ہیں اور ہر جگہ مہمان نوازی کی ٹیم ہے۔ ان ٹیم ممبر ان کو یا کارکنان کو جو بھی خدمت کرنے والے ہیں ان کو چاہیے کہ ہر قیام گاہ میں اپنے نمونے بھی ایسے دکھائیں کہ آنے والوں کو احساس ہو کہ وہ کسی دینی جلسے میں شرکت کے لئے آئے ہیں نہ کہ دنیاوی میلے میں اور اپنے رویے، اپنے اخلاق کو اعلیٰ معیاروں پر پہنچائیں ، رات کو یا دن کے کسی حصے میں بھی جب فارغ ہوں تو فارغ بیٹھے ہوئے اِدھر اُدھر کی گپیں لگانے کی بجائے دین کی باتیں کریں۔ اس کا اثر بھی مہمانوں پر ہو گا۔ ان پر واضح ہو گا کہ یہ لوگ ان دنوں میں دنیا سے مکمل طور پر کنارہ کش ہو کر خالصہ اللہ جمع ہوئے ہیں اور اس جذبے سے خدمت بھی کر رہے ہیں اور اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے مہمانوں کو بھی اپنے دین کی باتیں سکھا رہے ہیں۔ پس کارکنان کی طرف سے یہ تبلیغ بھی ہوتی ہے اور بچوں اور نوجوانوں کی تربیت بھی ہو رہی ہوتی ہے۔۔۔ ہمارے نظام میں بھی تربیت اور تبلیغ کے شعبے ہیں۔ جلسے کے دنوں میں اس کی ٹیمیں بھی بنتی ہیں۔ رات کو مختلف قوموں کے ساتھ ، طبقوں کے ساتھ بعض اجلاسات بھی ہوتے ہیں۔ پس اپنوں اور غیروں کو یہ روحانی مائدہ کھلانا بھی ڈیوٹی دینے والوں کی ذمہ داری ہے۔ اس کے انتظام بھی احسن رنگ میں کئے جائیں۔ پس ڈیوٹی والوں کو اس بات کو بھی اپنے سامنے رکھنا چاہیے ۔ وہ یہ بات یاد رکھیں کہ ان کے اپنے عملی نمونے بھی اور ان کی باتیں بھی مہمان نوازی کا حصہ ہیں۔ صرف خدمت کرنا ہی نہیں۔ اس کی طرف بھی ان دنوں میں توجہ دینی چاہیے۔ جو عام کھانا ہے وہی عہدیدار بھی کھائیں ۔۔۔ احمدیوں کو عمومی انتظام کے تحت جو کچھ پکا ہو اسے ہی کھانا چاہیے اور اسی طرح عہدیداروں کو بھی عام لنگر کا کھانا کھانا چاہیے۔ جو بھی کارکن ہیں، ڈیوٹی والے ہیں، عہدیدار ہیں سوائے اس کے کہ کسی کو کوئی خاص تکلیف ہو یا کسی وقت وہ کسی خاص مہمان کے ساتھ ڈیوٹی پر ہو