سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 103
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 71 تین باتوں کے بارے میں مسلمان کا دل خیانت نہیں کر سکتا پھر اللہ تعالیٰ کا ہمیں ایک حکم ہے فرمایا کہ يايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا آمَنَتِكُمْ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ (الانفال : 28) اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ اور اس کے رسول سے خیانت نہ کرو ورنہ تم اس کے نتیجہ میں خود اپنی امانتوں سے خیانت کرنے لگو گے جبکہ تم اس خیانت کو جانتے ہو گے ۔ ۔۔ امانتوں کا حق ادا کرنے اور خیانت سے بچنے کا مضمون بڑا وسیع مضمون ہے اور ایک مومن سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس کی اہمیت اور وسعت کو سمجھے اور اس کو سمجھنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بڑی وضاحت سے روشنی ڈالتا ارشاد بڑی وضاحت سے روشنی ڈالتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین باتوں کے بارے میں مسلمان کا دل خیانت نہیں کر سکتا۔ نمبر ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی خاطر کام میں خلوص نیت۔ دوسرا یہ کہ ہر مسلمان کے لئے خیر خواہی۔ تیسرے یہ کہ جماعت کے ساتھ مل کر رہنا۔ (سنن الدارمى المقدمه باب الاقتداء بالعلماء حديث نمبر 236 مطبوعہ بیروت لبنان 2000ء ) پس اس میں اللہ تعالیٰ کا حق بھی ہے۔ بندوں کے حق بھی ہیں اور جماعت سے وفا کا حق بھی ہے۔ یہ تینوں چیزیں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے میں عبادت کے علاوہ وہ تمام ذمہ داریاں بھی ہیں جو خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کرنے والوں پر ڈالی جاتی ہیں۔ عہدیداروں کے سپرد ان کی جو امانتیں کی گئی ہیں اپنی ان امانتوں کا حق ادا کرنے کا جائزہ اگر ہر انسان خود لے ، ہر خدمت کرنے والا خود لے اور خدا تعالیٰ کا تقویٰ سامنے رکھتے ہوئے یہ جائزہ لے تو پھر خود ہی اندازہ ہو جائے گا کہ کس حد تک اس امانت کا وہ حق ادا کر رہا ہے جو اس کے سپرد کی گئی ہے۔ ۔۔۔ اللہ تعالیٰ جہاں ہمیں اس رمضان میں اپنی عبادتوں کے معیار بڑھانے اور انہیں مستقل رکھنے کی توفیق عطا فرمائے وہاں ہمیں دوسرے اخلاق اور حقوق کی ادائیگی کے معیار بھی قائم کرنے اور انہیں مستقل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جیسا کہ میں نے کہا ہمارے کسی بھی