سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 102 of 539

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 102

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 70 ہے اگر وہ کسی بھی صورت میں خدمت انجام دے رہا ہے تو اس کا کام ہے کہ اپنے نمونے قائم کرے۔ اور اگر یہ ہو جائے تو پہلے بھی میں کئی دفعہ کہہ چکا ہوں کہ پچاس فیصد سے زیادہ جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنے والی بن سکتی ہے۔ چاہے وہ مسجدوں میں نمازوں کی حاضری ہو یا دوسری قربانیوں اور حقوق العباد کا معاملہ ہو۔ پس ہر سطح پر جماعت کی خدمت کرنے والا پہلے تو اپنے اندر دیکھے کہ ان احکامات کی کس حد تک میں پابندی کر رہا ہوں۔ ان کی جگالی کر کے اپنی حالت بہتر بنائے اور پھر دوسرے کو بتائے۔ اس طرح ہر احمدی کا بھی فرض ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں نے اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کو دیکھے اور دہرائے اور بار بار سامنے لائے۔ اگر ہم اس طرح کرنا شروع کر دیں تو ایک عظیم انقلاب ہے جو ہم لا سکتے ہیں اور نہ صرف اپنی اصلاح کرنے والے ہو سکتے، بلکہ دنیا کو حقیقی اخلاق کے معیاروں کا پتا دے سکتے ہیں۔ پس اس طرف ہمیں خاص طور پر توجہ دینی چاہیے اور اللہ تعالیٰ کے احکامات تلاش کر کر کے ان پر عمل کرنا چاہیے۔ اپنی عبادتوں کے جائزے لینے کی ضرورت ہے مجھے جب بعض کارکنان اور عہدیداروں کے بارے میں یہ شکایت ملتی ہے کہ وہ نمازوں میں سست ہیں۔ مسجد میں نہیں آتے یا بعض ایسے ہیں کہ گھروں میں بھی نہیں پڑھتے اور ان کی بیویاں شکایت کر رہی ہوتی ہیں تو اس بات پر بڑی شرمندگی ہوتی ہے۔ پس ہمیں اپنی عبادتوں کے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر تقویٰ حاصل نہیں ہو سکتا۔ اور جب تقویٰ نہ ہو تو پھر انسان نہ خدا تعالیٰ کے حق ادا کر سکتا ہے، نہ ہی اس کی مخلوق کے حق ادا کر سکتا ہے ، نہ ہی جماعت کے لئے کوئی کارآمد وجود بن سکتا ہے، نہ ہی اس کے کام میں برکت پڑسکتی ہے۔ پس ہمیں ہر وقت ہوشیار رہ کر اپنی عبادتوں کی نگرانی اور حفاظت کی ضرورت ہے تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹتے چلے جائیں اور روحانی ترقیات بھی حاصل کرنے والے ہوں۔