سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 101
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 69 اللہ تعالیٰ کے احکام تلاش کر کر کے ان پر عمل کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمیں جو احکامات دیئے ہیں ان کو یاد رکھنا، ان کو دہراتے رہنا، انہیں دوسرے جن لوگوں کی یاد دلانے کی ذمہ داری ہے کو بھی یاد دلانا، مومنین کی جماعت کا کام ہے۔ یہ جو میں نے کہا کہ ان احکامات کو دوسروں کو یاد دلانا، یا دلاتے رہنا جن کی یاد دلانے کی ذمہ داری ہے اس میں ہم میں سے وہ سب شامل ہیں جو یا مربیان ہیں یا عہدیداران ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعتی نظام میں ایک مرکزی نظام کے علاوہ ذیلی تنظیموں کا بھی نظام ہے اور پھر جماعتی مرکزی نظام میں بھی اور ذیلی تنظیموں کے نظام میں بھی ملکی سطح سے لے کر مقامی محلے کی سطح تک عہدیدار مقرر ہیں اور ہر عہدیدار سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ خلافت کا دست و بازو بن کر ان فرائض کو ادا کرنے کی کوشش کرے جو وسیع تر پھیلاؤ کے ساتھ خلافت کی ذمہ داری ہے۔ پس اگر اس بات کو تمام مربیان اور عہدیدار سمجھ لیں تو ایک انقلابی تبدیلی جماعت میں پیدا ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات کو دوسروں کو یاد دلانا یا یہ احساس پیدا ہونا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے طوعی طور پر یا مکمل طور پر وقف زندگی کر کے جو جماعتی خدمت کی توفیق دی ہے تو میں سب سے پہلے اپنے جائزے لوں کہ کس حد تک میں خود اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کر کے وہ نمونہ بننے کی کوشش کر رہا ہوں جو ایک خدمت کرنے والے کی ذمہ داری ہے تاکہ میں دوسروں کو ان احکامات کی یاد دلا سکوں۔ اگر میں صرف دوسروں کو یاد دلا رہا ہوں اور میرا اپنا عمل اس کے خلاف ہے یا اس سے دُور ہے تو پھر بڑے خوف کا مقام ہے اور استغفار کی ضرورت ہے۔ ویسے بھی استغفار کرنا چاہیے لیکن اس حوالے سے بہت زیادہ استغفار کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ یہاں ہم میں سے ہر ایک پر یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ کسی بھی عہدیدار کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ نصیحت کرنا میرا کام نہیں۔ یہ تو صرف امیر جماعت یا صدر جماعت یا سیکرٹری یا مربی یا ایک دو دوسرے سیکر ٹریان کا کام ہے یا اسی طرح صدر انصار اللہ یا ان کے تربیتی شعبہ کا کام ہے یا صدر خدام الاحمد یہ یا ان کے تربیتی شعبہ کا کام ہے یا لجنہ کی صدر اور ان کے تربیتی شعبہ کا کام ہے۔ نہیں، بلکہ ہر سیکر ٹری چاہے وہ سیکر ٹری ضیافت ہے یا ذیلی تنظیموں میں خدمت خلق یا کھیلوں کا نگر ان ہے، کوئی بھی