سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 82 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 82

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 62 پڑھو ، ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص قرآن کریم خوش الحانی سے اور سنوار کر نہیں پڑھتا اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ (ابو داؤد کتاب الصلوة باب كيف يستحب الترتيل في القراء ة) تو یہ مزید کھل گیا کہ ٹھہر ٹھہر کر اور سمجھ سمجھ کر پڑھنا چاہیے۔ اور کس طرح پڑھنا چاہیے ؟ اس کے بارے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”انسان کو چاہیے کہ قرآن شریف کثرت سے پڑھے۔ جب اس میں دعا کا مقام آوے تو دعا کرے اور خود بھی خدا سے وہی چاہے جو اس دعا میں چاہا گیا ہے اور جہاں عذاب کا مقام آوے تو اس سے پناہ مانگے اور ان بداعمالیوں سے بچے جن کے باعث وہ قوم تباہ ہوئی۔ بلا مد روحی کے ایک بالائی منصوبہ جو کتاب اللہ کے ساتھ ملاتا ہے وہ اس شخص کی ایک رائے ہے جو کہ کبھی باطل بھی ہوتی ہے ، اور ایسی راے جس کی مخالفت احادیث میں موجود ہو وہ محدثات میں داخل ہو گی۔ رسم اور بدعات سے پر ہیز بہتر ہے۔ اس سے رفتہ رفتہ شریعت میں تصرف شروع ہو جاتا ہے۔ بہتر طریق یہ ہے کہ ایسے وظائف میں جو وقت اس نے صرف کرنا ہے وہی قرآن شریف کے تدبر میں لگاوے۔ دل کی اگر سختی ہو تو اس کے نرم کرنے کے لئے یہی طریق ہے کہ قرآن شریف کو ہی بار بار پڑھے۔ جہاں جہاں دعا ہوتی ہے وہاں مومن کا بھی دل چاہتا ہے کہ یہی رحمت الہی میرے بھی شامل حال ہو۔ قرآن شریف کی مثال ایک باغ کی ہے کہ ایک مقام سے انسان کسی قسم کا پھول چنتا ہے پھر آگے چل کر ایک اور قسم کا پھول چنتا ہے۔ پس چاہیے کہ ہر ایک مقام کے مناسب حال فائدہ اٹھاوے۔ اپنی طرف سے الحاق کی کیا ضرورت ہے۔ ورنہ پھر سوال ہو گا کہ تم نے ایک نئی بات کیوں بڑھائی؟ خدا تعالی کے سوا اور کس کی طاقت ہے کہ کہے فلاں راہ سے اگر سورۃ یاسین پڑھو گے تو برکت ہو گی ورنہ نہیں“۔ (ملفوظات جلد 3 صفحہ 519 جدید ایڈیشن) یہ باتیں ہوتی ہیں کہ اس طرح سورۃ یاسین پڑھی جائے تو برکت ہو گی اور اگر اس طرح ہو گی تو نہیں ہو گی۔