سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 83 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 83

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 63 پس ہر ایک کو اس نصیحت پر عمل کرنا چاہیے ، دلوں کو پاک کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اس طرح غور اور تدبر سے پڑھنا چاہیے جیسا کہ آپؐ نے فرمایا۔ پھر ہر ایک جائزہ لے کہ کتنے حکم ہیں جن پر میں عمل کرتا ہوں۔ تو اگر روزانہ تلاوت کی عادت ہو اور پھر اس طرح روزانہ جائزہ ہو تو کیا دل کے اندر کوئی برائی رہ سکتی ہے ؟ کبھی نہیں۔ تو یہ بھی ایک پاک کرنے کا ذریعہ ہو گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : ” قرآن شریف اپنی روحانی خاصیت اور اپنی ذاتی روشنی سے اپنے سچے پیرو کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور اُس کے دل کو منور کرتا ہے اور پھر بڑے بڑے نشان دکھلا کر خدا سے مر خدا سے ایسے تعلقات مستحکم بخش دیتا ہے کہ وہ ایسی ں دیتا ہے کہ وہ ایسی تلوار سے بھی ٹوٹ نہیں سکتے جو ٹکڑہ ٹکڑہ کرنا چاہتی ہے۔ وہ دل کی آنکھ کھولتا ہے اور گناہ کے گندے چشمہ کو بند کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کے لذیذ مکالمہ مخاطبہ سے شرف بخشا ہے اور علوم غیب عطا فرماتا ہے اور دعا قبول کرنے پر اپنے کلام سے اطلاع دیتا ہے ۔ “ (چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 308-309) قرآن شریف پر تدبر کرو اس میں سب کچھ ہے اللہ کرے کہ ہم خود بھی اور اپنے بیوی بچوں کو بھی اس طرف توجہ دلانے والے ہوں اور اپنے دلوں کو منور کرنے والے ہوں اور قبولیت دعا کے نظارے دیکھنے والے ہوں۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ انصار اللہ کے ذمہ خلافت ثالثہ میں یہ لگایا گیا تھا کہ قرآن کریم کی تعلیم کو رائج کریں، قرآن کریم کی تلاوت کی طرف توجہ دیں۔ گھروں کو بھی اس نور سے منور کریں لیکن ابھی بھی جہاں تک میرا اندازہ ہے انصار اللہ میں بھی سو فیصد قرآن کی تلاوت کرنے والے نہیں ہیں۔ اگر جائزہ لیں تو یہی صورتحال سامنے آئے گی۔ اور پھر یہ کہ اس کا ترجمہ پڑھنے والے ہوں آج انصار الله کا اجتماع بھی شروع ہو رہا ہے یہ بھی ان کے پروگرام میں ہونا چاہیے کہ اپنے گھروں میں خود بھی پڑھیں اور اپنے بیوی بچوں کی بھی نگرانی کریں کہ وہ بھی اس پر عمل کرنے والے ہوں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : ”میں بار بار کہتا ہوں اور بلند آواز سے کہتا ہوں کہ قرآن اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت رکھنا اور سچی تابعداری اختیار کرنا انسان کو صاحب کرامات بنا دیتا ہے۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ، روحانی خزائن جلد 1 11 صفح 345 جلد 11 صفحہ