سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 81 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 81

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 61 لوگوں کے لئے جو عمل نہیں کرتے، قرآن کریم میں آیا ہے کہ وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (الفرقان: 13)۔ اور رسول کہے گا اے میرے رب یقینا میری قوم نے اس قرآن کو متروک کر چھوڑا ہے۔ پس احمدیوں کو ہمیشہ فکر کرنی چاہیے کیونکہ ماحول کا بھی اثر ہو جاتا ہے۔ دنیا داری بھی غالب آجاتی ہے۔ کوئی احمدی کبھی بھی ایسا نہ رہے جو کہ روزانہ قرآن کریم کی تلاوت نہ کرتا ہو ، کوئی احمدی ایسا نہ ہو جو اس کے احکام پر عمل نہ کرتا ہو۔ اللہ نہ کرے کہ کبھی کوئی احمدی اس آیت کے نیچے آجائے کہ اس نے قرآن کریم کو متروک چھوڑ دیا ہو۔ پس اس کے لئے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ جو کمیاں ہیں ہر ایک کو اپنا اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ ہمارے اندر کوئی کمی تو نہیں۔ ہم نے قرآن کریم کو چھوڑ تو نہیں دیا۔ تلاوت با قاعدگی سے ہو رہی ہے یا نہیں۔ ترجمہ پڑھنے کی کوشش ہو رہی ہے کہ نہیں۔ تفسیر سمجھنے کی کوشش ہو رہی ہے کہ نہیں۔ متروک چھوڑنے کا مطلب یہی ہے کہ اس کے حکموں پر عمل نہیں کر رہے۔ نہ اللہ کے حقوق ادا کر رہے ہیں نہ بندوں کے حقوق ادا کر رہے ہیں۔ ایسی صورت میں جب ہر کوئی اپنا جائزہ لے تو ہر ایک کو اپنا علم ہو جائے گا کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ قرآن کریم غور سے اور سمجھ کر پڑھو ۔۔۔ قرآن کریم کے پڑھنے کے بھی کچھ آداب ہیں اس کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر و بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے تین دن سے کم عرصے میں قرآن کریم کو ختم کیا اس نے قرآن کریم کا کچھ نہیں سمجھا۔ (ترمذی ابواب القراء ة) بعض لوگوں کو بڑا فخر ہوتا ہے کہ ہم نے اتنے دن میں، ایک دن میں یا دو دن میں سارا قرآن کریم ختم کر لیا۔ یا ہم نے اتنے منٹ میں سیپارے ختم کر دیئے یا اتنا سیپارہ ختم کر دیا۔ بلکہ رمضان کے دنوں میں تو پاکستان میں (اور جگہوں پہ بھی ہو گا) غیروں کی مسجدوں میں مقابلہ ہوتا ہے کہ کون جلدی تراویح پڑھاتا ہے ۔۔۔ حکم یہ ہے کہ قرآن کریم غور سے اور سمجھ کر