سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 51
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 31 جماعتی کاموں میں بھی زیادہ فائدہ مند اور مفید وجود ثابت ہوتے ہیں اور اس نظام کا ایک حصہ بنتے ہیں۔ تو بہر حال انہی ذیلی نظاموں کا حصہ بنتے ہوئے ہر بچہ ، جوان، عورت، مرد، جب جماعتی نظام کا حصہ بن جاتے ہیں تو گو جماعتی نظام پہلے ہے، مقدم ہے۔ لیکن اس میں ہر بچے اور نوجوان کی اس طرح مکمل involvement نہیں ہوتی جس طرح کہ شروع میں ذیلی تنظیموں میں ہو رہی ہوتی ہے اور ہو بھی نہیں سکتی۔ اس لئے حضرت مصلح موعودؓ کی دور رس نظر نے ذیلی تنظیموں کا قیام کیا تھا اور یہ آپ کا ایک بہت بڑا احسان ہے جماعت پر ، اور اسی وجہ سے جیسا کہ میں نے کہا، ابتداء سے ہی جماعت کے ہر بچہ کے ذہن میں جماعتی نظام کا ایک تقدس اور احترام پیدا ہو جاتا ہے۔ اور اسی احترام اور تقدس کے تحت وہ پروان چڑھتا ہے اور چونکہ ابتداء سے ہی نظام کا تصور پیار و محبت اور بھائی چارے اور مل جل کر کام کرنے کی روح کے ساتھ وہ بچہ پروان چڑھ رہا ہوتا ہے اور پھر خلیفہ وقت کے ساتھ ہر موقع پر ذاتی پیار و محبت کا تعلق اس ٹریننگ کی وجہ سے ہو رہا ہو تا ہے اور ہو جاتا ہے اس لئے ہر فرد جماعت جب جماعت کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہو اور اپنے عہدیداران کی اطاعت بخوشی کرتا ہے تو اس لئے کرتا ہے کہ بچپن سے نظام کے بارہ میں پڑنے والی آواز اور خلیفہ وقت سے ذاتی تعلق اور پیار کی وجہ سے مجبور ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے نظام جماعت چونکہ مضبوط بنیادوں پر قائم ہو چکا ہے اور خلیفہ وقت کی براہ راست اس پر نظر ہوتی ہے اس لئے نئے شامل ہونے والے ، نو مبائعین بھی ان احمدیوں کے علاوہ بھی جو پیدائشی احمدی ہوں، بڑی جلدی نظام میں سموئے جاتے ہیں۔ ذرا ذراسی بات پر غصہ میں آجانے کی عادت کو عہدیداران کو ترک کرنا ہو گا لیکن جیسے جیسے یہ سلسلہ وسیع سے وسیع تر ہو تا چلا جا رہا ہے، نظام جماعت کو چلانے والے کارکنان اور عہدیداران کی ذمہ داریاں بھی زیادہ بڑھتی چلی جارہی ہیں۔ انہیں تسبیح اور استغفار کی طرف توجہ کرنے کی زیادہ ضرورت ہے۔ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ كا جو حکم ہے اس طرف زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اور یہی چیز ان کو زیادہ احساس دلا رہی ہے ، یا