سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 52 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 52

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 32 کم از کم احساس دلانا چاہیے کہ اپنی طبیعتوں میں نرمی پیدا کرنے کی طرف زیادہ توجہ دیں۔ اپنی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دینے کے احساس کو زیادہ ابھارنے کی ضرورت ہے۔ نظام جماعت کی ذمہ داری ادا کرتے وقت اپنی اناؤں اور خواہشات کو مکمل ختم کر کے خدمت سر انجام دینے کی طرف توجہ کرنے کی زیادہ ضرورت ہے اور پہلے سے بڑھ کر ضرورت ہے۔ ذرا ذرا سی بات پر غصہ میں آجانے کی عادت کو عہدیداران کو ترک کرنا ہو گا اور کرنا چاہئے۔ جماعت کے احباب سے پیار، محبت کے تعلق کو بڑھانے، ان کی باتوں کو غور اور توجہ سے سننے اور ان کے لئے دعائیں کرنے کی عادت کو مزید بڑھانا چاہیے۔ تبھی سمجھا جا سکتا ہے کہ عہدیداران اپنی ذمہ داریاں مکمل طور پر ادا کر رہے ہیں یا کم از کم ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ قوم کے سردار قوم کے خادم ہوتے ہیں جماعت احمد یہ میں عہدیدار اسٹیجوں پر بیٹھنے یا رعونت سے پھرنے کے لئے نہیں بنائے جاتے بلکہ اس تصور سے بنائے جاتے ہیں کہ قوم کے سردار قوم کے خادم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جماعت کو اکٹھا رکھنے کے لئے ایک رہنما اصول اس آیت میں بتا دیا ہے جو میں نے تلاوت کی ہے۔ تو اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خوبی کی وجہ سے کہ آپ کے دل میں لوگوں کے لئے نرمی اور محبت کے جذبات تھے لوگ آپ کے ارد گرد اکٹھے ہوتے تھے اور آپ کے پاس آتے تھے تو پھر میں اور آپ، ہم کون ہوتے ہیں جو محبت اور پیار کے جذبات لوگوں کے لئے نہ دکھائیں اور امید رکھیں کہ لوگ ہماری ہر بات مانیں۔ ہمیں تو اپنے آقا کی اتباع میں بہت بڑھ کر عاجزی، انکساری، پیار اور محبت کے ساتھ لوگوں سے پیش آنا چاہیے۔ کیونکہ خلیفہ وقت کے لئے تو ہر ملک میں ، ہر شہر میں یا ہر محلے میں جاکر لوگوں کے حالات سے واقفیت حاصل کرنا مشکل ہے۔ یہ نظام جماعت قائم ہے جیسا کہ میں نے بتایا کہ اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت مضبوط بنیادوں پر قائم ہو چکا ہے۔