سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 50 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 50

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 30 جماعت احمدیہ کا نظام ایک ایسا نظام ہے جو ۔۔۔ ہر احمدی کو ایک پیار اور محبت کی لڑی میں پرو کر رکھتا ہے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے میں جماعتی اور ذیلی تنظیموں کے عہدیداران کو گراں قدر نصائح سے نوازتے ہوئے فرمایا: ” جماعت احمدیہ کا نظام ایک ایسا نظام ہے جو بچپن سے لے کر مرنے تک ہر احمدی کو ایک پیار اور محبت کی لڑی میں پرو کر رکھتا ہے۔ بچہ جب سات سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو اسے ایک نظام کے ساتھ وابستہ کر دیا جاتا ہے اور وہ مجلس اطفال الاحمدیہ کا ممبر بن جاتا ہے۔ تا ہے۔ ایک بچی جب سات سال کی عمر کو پہنچتی ہے تو وہ ناصرات الاحمدیہ کی رکن بن جاتی ہے جہاں انہیں ایک ٹیم ورک کے تحت کام کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ پھر انہی میں سے ان کے سائق بنا کر اپنے عہدیدار کی اطاعت کا تصور پیدا کیا جاتا ہے۔ پھر پندرہ سال کی عمر کو جب پہنچ جائیں تو بچے خدام الاحمدیہ کی تنظیم میں اور بچیاں لجنہ اماء اللہ کی تنظیم میں شامل ہو جاتی ہیں اور ایک انتظامی ڈھانچے کے تحت بچپن سے تربیت حاصل کر کے اوپر آنے والے بچے اور بچیاں ہیں جب نوجوانی کی عمر میں قدم رکھتے ہیں تو ان نیک تنظیموں میں شامل ہونے سے جماعتی نظام اور طریقوں سے ان کو مزید واقفیت پیدا ہوتی ہے۔ اور عمر کے ساتھ ساتھ کیونکہ اب یہ بچے اور بچیاں اس عمر کو پہنچ جاتے ہیں جس میں شعور پیدا ہو جاتا ہے۔ اس لئے پندرہ سال کی عمر کے بعد یہ خود بھی اپنے میں سے ہی اپنے عہدیدار منتخب کرتے ہیں اور ان کے تحت ان کی تربیت ہو رہی ہوتی ہے اور نظام چل رہا ہوتا ہے۔ تو پندرہ سال کی عمر کے بعد جیسا کہ میں نے کہا کہ لجنہ یا خدام میں جا کر یہ لوگ اپنے عہدیدار اپنے میں سے منتخب کرتے ہیں اور پھر مرکزی ہدایات کی روشنی میں متفرق امور اور تربیتی امور خود سر انجام دے رہے ہوتے ہیں اور ان پر عمل بھی کرتے ہیں۔ تو بچپن سے ہی ایسی تربیت حاصل کرنے کی وجہ سے ، ایسے پروگراموں میں شمولیت کی وجہ سے ان کو ٹریننگ ہو جاتی ہے اور پھر یہی بچے جب بڑے ہوتے ہیں اور جماعتی نظام میں پوری طرح سموئے جاتے ہیں تو