سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 484
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 464 اغراض ہیں ؟” اور وہ اس بات کا حقدار نہیں ہے کہ اُس کو سچا مسلمان، خدا اور اُس کے رسول کا سچا تابعدار اور فرمانبردار کہہ سکیں کیونکہ جس طرح سے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے قرآن شریف میں احکام دیئے ہیں اسی طرح سے آخری زمانہ میں ایک آخری خلیفہ کے آنے کی پیشگوئی بھی بڑے زور سے بیان فرمائی ہے اور اُس کے نہ ماننے والے اور اُس سے انحراف کرنے والوں کا نام فاسق رکھا ہے۔ قرآن اور حدیث کے الفاظ میں فرق (جو کہ فرق نہیں بلکہ بالفاظ دیگر قرآن شریف کے الفاظ کی تفسیر ہے) صرف یہ ہے کہ قرآن شریف میں خلیفہ کا لفظ بولا گیا ہے اور حدیث میں اسی خلیفہ آخری کو مسیح موعود کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے۔ پس قرآن شریف نے جس شخص کے مبعوث کرنے کے متعلق وعدے کا لفظ بولا ہے اور اس طرح سے اس شخص کی بعثت کو ایک رنگ کی عظمت عطا کی ہے وہ مسلمان کیسا ہے جو کہتا ہے کہ ہمیں اُس کے ماننے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟“ خلفاء ہی مجدد ہوں گے فرمایا کہ : ” خلفاء کے آنے کو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک لمبا کیا ہے اور اسلام میں یہ ایک شرف اور خصوصیت ہے کہ اُس کی تائید اور تجدید کے واسطے ہر صدی پر مجدد آتے رہے اور آتے رہیں گے۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تشبیہ دی ہے۔“ یہاں مجدد کے بارے میں پھر بعض دفعہ لوگ غلطی کھا جاتے ہیں کہ اگر آتے رہیں گے تو کون ہوں گے ؟ اس بارے میں ایک تفصیلی خطبہ میں پہلے دے چکا ہوں۔ اُس سے بھی نوٹس لئے جاسکتے ہیں کہ خلفاء ہی مجدد ہوں گے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بڑی وضاحت سے بیان بھی فرما چکے ہیں۔ جماعت کے لٹریچر میں بھی یہ سب کچھ موجود ہے۔ فرمایا: ” دیکھو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تشبیہ دی ہے جیسا کہ گما کے لفظ سے ثابت ہوتا ہے۔ شریعت موسوی کے آخری خلیفہ حضرت عیسیٰ تھے جیسا کہ خود وہ فرماتے ہیں کہ میں آخری اینٹ ہوں۔ اسی طرح شریعت محمدی