سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 485
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 465 میں بھی اس کی خدمت اور تجدید کے واسطے ہمیشہ خلفاء آئے اور قیامت تک آتے رہیں گے اور اس طرح سے آخری خلیفہ کا نام بلحاظ مشابہت اور بلحاظ مفوضہ خدمت کے مسیح موعود رکھا گیا۔ اور پھر یہی نہیں کہ معمولی طور سے اس کا ذکر ہی کر دیا ہو بلکہ اُس کے آنے کے نشانات تفصیلاً گل کتب سماوی میں بیان فرما دیئے ہیں۔ بائبل میں ، انجیل میں ، احادیث میں اور خود قرآن شریف میں اس کی آمد کی نشانیاں دی گئی ہیں اور ساری قومیں ، یہودی، عیسائی اور مسلمان متفق طور سے اس کی آمد کے قائل اور منتظر ہیں، اس کا انکار کر دینا کس طرح سے اسلام ہو سکتا ہے اور پھر جبکہ وہ ایک ایسا شخص ہے کہ اُس کے واسطے آسمان پر بھی اللہ تعالیٰ نے اُس کی تائید میں نشان ظاہر کئے اور زمین پر بھی معجزات دکھائے۔ اُس کی تائید کے واسطے طاعون آیا اور کسوف و خسوف اپنے مقررہ وقت پر بموجب پیشگوئی عین وقت پر ظاہر ہو گیا تو کیا ایسا شخص جس کی تائید کے واسطے آسمان نشان ظاہر کرے اور زمین انوقت کہے وہ کوئی معمولی شخص ہو سکتا ہے کہ اُس کا ماننا اور نہ ماننا برابر ہو اور لوگ اُسے نہ مان کر بھی مسلمان اور خدا کے پیارے بندے بنے رہیں؟ ہر گز نہیں“۔ فرمایا: یاد رکھو کہ موعود کے آنے کی کُل علامات پوری ہو گئی ہیں۔ طرح طرح کے مفاسد نے دنیا کو گندہ کر دیا ہے۔ خود مسلمان علماء اور اکثر اولیاء نے مسیح موعود کے آنے کا یہی زمانہ لکھا ہے کہ وہ چودھویں صدی میں آئے گا۔ 66 فرمایا: ” اس قدر متفقہ شہادت کے بعد بھی جو کہ اولیاء اور اکثر علماء نے بیان کی، اگر کوئی شبہ رکھتا ہو تو اُسے چاہیے کہ قرآن شریف میں تدبر کرے اور سورۃ النور کو غور سے مطالعہ کرے۔ دیکھو جس طرح حضرت موسیٰ سے چودہ سو برس بعد حضرت عیسی آئے تھے اسی طرح یہاں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چودھویں صدی ہی میں مسیح موعود آیا ہے اور جس طرح حضرت عیسی سلسلہ موسوی کے خاتم الخلفاء تھے اسی طرح ادھر بھی مسیح موعود خاتم الخلفاء ہو گا۔ “ ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 551-552 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) یعنی آپ نے فرمایا کہ میں آئندہ ہزار سال کا خلیفہ ہوں اور جو بھی اب آئے گا آپ کی متابعت میں ہی آئے گا۔